أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا هَارُونُ بْنُ ⦗٣٤⦘ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍّ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ، فَهُوَ سُحْتٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تاکہ میں آپ سے اپنے قرض کے بارے میں سوال کروں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”سوال کرنا حرام ہے، سوائے تین اشخاص کے: ایک وہ بندہ جس پر قرض کا بوجھ ہے اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے قرض کو ادا کرلے، پھر وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آگئی اور اس کا مال سارا تباہ ہو گیا اس کے لیے بھی سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ آسودہ حال ہو جائے تو وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کو کوئی ضرورت پڑ گئی ہو یا اس کو فاقہ پہنچا ہو اور تین معتبر افراد اس کی قوم میں سے گواہی دے دیں تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زِيدٍ، ح وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ثنا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صلح کرانے کے لیے) ایک قرض کا بوجھ اٹھایا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا تاکہ اس کے بارے میں آپ سے سوال کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو ہم اسے تمہیں دینے کا حکم دیں گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (صلح کے لیے) قرض کا بوجھ اٹھایا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے وہ مل جائے، پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی اور اس نے اس کا مال تباہ کر دیا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا مل جائے، یا فرمایا: ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے صدقہ حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا یا ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَسْأَلُ أَمْوَالَنَا، فَقَالَ: " لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ فِي الْحَاجَةِ أَوْ لِفَتْقٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرُبَ اسْتَعَفَّ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَتْقُ الْحَرْبُ يَكُونُ بَيْنَ الْفَرِيقَيْنِ، فَتَقَعُ بَيْنَهُمَا الدِّمَاءُ وَالْجِرَاحَاتُ، فَيَتَحَمَّلُهَا رَجُلٌ لِيُصْلِحَ بِذَلِكَ، فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ وَقَوْلُهُ: اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ، يَقُولُ: دَنَا مِنْ ذَلِكَ وَقَرُبَ مِنْهُ، وَقَوْلُهُ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ: هُوَ بِكَسْرِ السِّينِ، وَكُلُّ شَيْءٍ سَدَدْتَ بِهِ خَلَلًا فَهُوَ سِدَادٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ہم سے مانگنے والے بہت ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک ضرورت کے وقت یا لڑائی کے وقت مانگے تاکہ اس مال کے ذریعے اپنی قوم میں صلح کروائے۔ جب معاملہ ختم ہو جائے یا ختم ہونے کے قریب ہو جائے تو رک جائے۔“ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں، «الْفَتْقُ» کا معنی جنگ ہے، جس سے دو گروہ ہلاک و زخمی ہوتے ہیں تو وہ آدمی صلح کے لیے مانگتا ہے، «اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ» کا معنی نزدیک ہونا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا، فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانچ مال دار اشخاص کے علاوہ صدقہ کسی مال دار پر جائز نہیں ہے: (1) صدقہ لینے والا (عامل)، (2) کسی آدمی نے اپنے مال سے صدقے کی چیز کو خریدا، (3) کوئی چٹی شدہ آدمی، (4) اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والا غازی اور (5) وہ مال دار کہ کسی مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے تحفے میں کسی مال دار کو دے دیا۔“
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْمُقْرِئُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سَعِيدٌ، نا عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا وَجَهَدَ فِي قَضَائِهِ، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ، فَأَنَا وَلِيُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس بندے نے کوئی قرض چھوڑا اور اس نے اس کے ادا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ادائیگی سے پہلے فوت ہو گیا تو میں اس کا ولی ہوں (یعنی ادا کرنے والا)۔“