السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: سهم الغارمين باب: غارمین (قرض داروں) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَسْأَلُ أَمْوَالَنَا، فَقَالَ: " لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ فِي الْحَاجَةِ أَوْ لِفَتْقٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرُبَ اسْتَعَفَّ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفَتْقُ الْحَرْبُ يَكُونُ بَيْنَ الْفَرِيقَيْنِ، فَتَقَعُ بَيْنَهُمَا الدِّمَاءُ وَالْجِرَاحَاتُ، فَيَتَحَمَّلُهَا رَجُلٌ لِيُصْلِحَ بِذَلِكَ، فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ وَقَوْلُهُ: اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ، يَقُولُ: دَنَا مِنْ ذَلِكَ وَقَرُبَ مِنْهُ، وَقَوْلُهُ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ: هُوَ بِكَسْرِ السِّينِ، وَكُلُّ شَيْءٍ سَدَدْتَ بِهِ خَلَلًا فَهُوَ سِدَادٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ہم سے مانگنے والے بہت ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک ضرورت کے وقت یا لڑائی کے وقت مانگے تاکہ اس مال کے ذریعے اپنی قوم میں صلح کروائے۔ جب معاملہ ختم ہو جائے یا ختم ہونے کے قریب ہو جائے تو رک جائے۔“ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں، «الْفَتْقُ» کا معنی جنگ ہے، جس سے دو گروہ ہلاک و زخمی ہوتے ہیں تو وہ آدمی صلح کے لیے مانگتا ہے، «اسْتَغْنَى أَوْ كَرُبَ» کا معنی نزدیک ہونا ہے۔