❮
❯
حدیث نمبر: 13194
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زِيدٍ، ح وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ثنا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صلح کرانے کے لیے) ایک قرض کا بوجھ اٹھایا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا تاکہ اس کے بارے میں آپ سے سوال کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو ہم اسے تمہیں دینے کا حکم دیں گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (صلح کے لیے) قرض کا بوجھ اٹھایا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے وہ مل جائے، پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی اور اس نے اس کا مال تباہ کر دیا تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا مل جائے، یا فرمایا: ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے صدقہ حلال ہے یہاں تک کہ اسے گزر بسر کا سہارا یا ضرورت پوری کرنے کے بقدر مل جائے۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے، جسے مانگنے والا حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13194
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»