السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب باب: دارالحرب میں مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: " وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِيقٍ يُقَالُ لَهُ الصَّفْرَاءُ خَرَجَ مِنْهُ إِلَى كَثِيبٍ يُقَالُ لَهُ سَيْرٌ عَلَى مَسِيرَةِ لَيْلَةٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ذَلِكَ الْكَثِيبِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَنْ حَوْلَ سَيْرٍ وَأَهْلُهُ مُشْرِكُونَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْوَالَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَسَبْيَهُمْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي غَنِمَهَا فِيهِ، قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ عَنْهُ، وَمَا حَوْلَهُ كُلُّهُ بِلَادُ شِرْكٍ، وَأَكْثَرُ مَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَرَاءُ سَرَايَاهُ مَا غَنِمُوا بِبِلَادِ أَهْلِ الْحَرْبِ.محمد بن اسحاق بن یسار کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ گزرے، جب مضیق سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے تو اس سے نکل کر ایک ٹیلے کی طرف آئے جسے سَیر کہا جاتا ہے، جو بدر سے ایک رات کی مسافت پر ہے یا اس سے زیادہ، تو رسول اللہ ﷺ نے غنیمت کو مسلمانوں میں اس ٹیلے پر تقسیم کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَیر کے اردگرد والے اور اس کے رہنے والے مشرک تھے اور شافعی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق کے اموال اور ان کے قیدیوں کو تقسیم کیا اس جگہ پر جہاں یہ غنیمت حاصل ہوئی تھی، قبل اس سے کہ وہاں سے پھرتے اور اس کے اردگرد سارے مشرکوں کے گھر تھے اور اکثر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے امراء جو بھی غنیمت ملتی اسے اہل حرب کے شہروں میں ہی تقسیم کرتے تھے۔