کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تین یا اس سے زائد برابر درجے کی دادیوں کو وارث بنانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ، وَشَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " أَطْعَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ سُدُسًا " قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: جَدَّتَاكَ مِنْ قِبَلِ أَبِيكَ، وَجَدَّةُ أُمِّكَ هَذَا مُرْسَلٌ ⦗٣٨٧⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبِ، عِنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَيْضًا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین «جَدَّاتٍ» کو «السُّدُسِ» کا وارث بنایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے کہا: وہ کون تھیں؟ انہوں نے کہا: دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی۔
یہ مرسل ہے۔ اور یہ عبدالرحمن بن یزید کے واسطے سے نبی ﷺ سے بھی روایت کی گئی ہے اور وہ بھی مرسل ہے۔
یہ مرسل ہے۔ اور یہ عبدالرحمن بن یزید کے واسطے سے نبی ﷺ سے بھی روایت کی گئی ہے اور وہ بھی مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرَّثَ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ " وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ تَأْكِيدٌ لِلْأَوَّلِ، وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین جدات کو وارث بنایا۔“
یہ بھی مرسل ہے، اور اس میں پہلی روایت کی تائید ہے، اور یہی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت سے مروی ہے۔
یہ بھی مرسل ہے، اور اس میں پہلی روایت کی تائید ہے، اور یہی رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت سے مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِي الْجَدَّاتِ الْأَرْبَعِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَطْعَمَهُنَّ السُّدُسَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت محمد رحمہ اللہ سے چار «الْجَدَّاتِ» ”جدات“ کے بارے میں منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے «السُّدُسِ» ”سدس“ میں سب کو برابر رکھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " كَانَا يُوَرِّثَانِ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے منقول ہے کہ حضرت علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تین جدات کو وارث ٹھہراتے تھے: دو باپ کی طرف سے اور ایک ماں کی طرف سے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " فَإِنْ تَرَكَ الْمُتَوَفَّى ثَلَاثَ جَدَّاتٍ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ لَيْسَ دُونَهُنَّ أُمٌّ وَلَا أَبٌ، فَالسُّدُسُ بَيْنَهُنَّ ثَلَاثَتَهُنَّ، وَهُنَّ أُمُّ أُمِّ الْأُمِّ، وَأُمُّ أُمِّ الْأَبِ، وَأُمُّ أَبِي الْأَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: اگر میت تین جدات برابر کے درجے میں چھوڑے اور ان کے علاوہ ماں باپ نہ ہوں تو سدس تینوں کے لیے ہوگا اور وہ پڑنانی اور پڑدادی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا حُمَيْدٌ، وَدَاوُدُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: " تَرِثُ ثَلَاثُ جَدَّاتٍ، جَدَّتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ، وَوَاحِدَةٍ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین جدات وارث بنیں گی: دو باپ کی طرف سے اور ایک ماں کی طرف سے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " تَرِثُ ثَلَاثُ جَدَّاتٍ، جَدَّتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ، وَوَاحِدَةٍ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین جدات وارث بنیں گی، دو باپ کی طرف سے اور ایک ماں کی طرف سے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " تَرِثُ الْجَدَّاتُ الْأَرْبَعُ جَمْعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: چار جدات اکٹھی وارث بنیں گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " جِئْنَ أَرْبَعُ جَدَّاتٍ يَتَسَاوَقْنَ إِلَى مَسْرُوقٍ، فَأَلْقَى أُمَّ أَبِي الْأُمِّ، وَوَرَّثَ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چار جدات مل کر مسروق رحمہ اللہ کے پاس آئیں، انہوں نے نانا کی ماں کو علیحدہ کر دیا اور تین جدات کو وارث بنا دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَشَيْبَانُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَا فِي أُمِّ أَبِي الْأُمِّ: " لَا تَرِثُ " وَقَالَ دَاوُدُ: عَنِ الشَّعْبِيِّ: " إِنَّمَا الَّذِي تُدْلِي بِهِ لَا يَرِثُ، فَكَيْفَ تَرِثُ هِيَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی، حمید اور حسن سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے نانا کی ماں کے بارے میں کہا کہ وہ وارث نہیں ہے۔
شعبی سے روایت ہے کہ اس کا بیٹا جو اس سے نزدیک ہے وہ وارث نہیں ہے، تو وہ کیسے وارث بن سکتی ہے؟
شعبی سے روایت ہے کہ اس کا بیٹا جو اس سے نزدیک ہے وہ وارث نہیں ہے، تو وہ کیسے وارث بن سکتی ہے؟