کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دور کی دادی کی بجائے قریب کی دادی کو وارث بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 12359
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا وَزَيْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " كَانَا يُوَرِّثَانِ الْقُرْبَى مِنَ الْجَدَّاتِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما قریبی جدات کو وارث بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 12360
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُوَرِّثَانِ مِنَ الْجَدَّاتِ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما جدات میں سب سے قریبی کو وارث بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 12361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُطْعِمَانِ الْجَدَّةَ أَوِ الثِّنْتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَ السُّدُسَ، لَا يُنْقَصْنَ مِنْهُ وَلَا يُزَدْنَ عَلَيْهِ إِذَا كَانَتْ قَرَابَتُهُنَّ إِلَى الْمَيِّتِ سَوَاءً، فَإِنْ كَانَتْ إِحْدَاهُنَّ أَقْرَبَ، فَالسُّدُسُ لَهَا دُونَهُنَّ " وَكَانَ عَبْدُ اللهِ " يُشْرِكُ بَيْنَ أَقْرَبِهِنَّ وَأَبْعَدِهِنَّ فِي السُّدُسِ إِنْ كُنَّ بِمَكَانٍ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ الْجَدَّاتِ مِنَ السُّدُسِ إِلَّا الْأُمُّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما ایک «جَدَّة» ”دادی یا نانی“ یا دو یا تین کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ کا وارث بناتے تھے، نہ اس سے کم کرتے تھے اور نہ زیادہ، جب سب میت کے قریب ہوتیں۔ اگر ایک زیادہ قریبی ہوتی تو اس کے لیے ان کے علاوہ «السُّدُسُ» ہوتا تھا، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ قریب اور دور والی سب کو «السُّدُسُ» میں شریک کرتے تھے، اگرچہ وہ مختلف جگہوں پر ہوتیں اور «جَدَّات» کے لیے صرف ماں کو «حَاجِب» ”مانعِ ارث“ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُوَرِّثَانِ الْقُرْبَى مِنَ الْجَدَّاتِ السُّدُسَ، وَإِنْ يَكُنَّ سَوَاءً فَهُوَ بَيْنَهُنَّ "، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ: " لَا يَحْجُبُ الْجَدَّاتِ إِلَّا الْأُمُّ، وَيُوَرِّثْهُنَّ وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُنَّ أَقْرَبَ مِنْ بَعْضٍ، إِلَّا أَنَ تَكُونَ إِحْدَاهُنَّ أُمَّ الْأُخْرَى فَيُوَرِّثُ الِابْنَةَ " ⦗٣٨٩⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمَعْنَاهُ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما قریبی جدات کو «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ کا وارث بناتے تھے۔ اگر سب برابر ہوتیں تو «السُّدُسُ» ”چھٹے حصے“ میں سب کو شریک کر دیتے تھے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جدات کے لیے صرف ماں «حَاجِبٌ» ”رکاوٹ“ بن سکتی ہے اور وہ سب کو وارث بناتے تھے، اگرچہ قریبی ہو یا بعد والی، مگر یہ کہ ان میں سے کوئی دوسری کی ماں ہوتی تو قریبی کو وارث بنا دیتے۔