❮
❯
حدیث نمبر: 12358
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَشَيْبَانُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَا فِي أُمِّ أَبِي الْأُمِّ: " لَا تَرِثُ " وَقَالَ دَاوُدُ: عَنِ الشَّعْبِيِّ: " إِنَّمَا الَّذِي تُدْلِي بِهِ لَا يَرِثُ، فَكَيْفَ تَرِثُ هِيَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

شعبی، حمید اور حسن سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے نانا کی ماں کے بارے میں کہا کہ وہ وارث نہیں ہے۔
شعبی سے روایت ہے کہ اس کا بیٹا جو اس سے نزدیک ہے وہ وارث نہیں ہے، تو وہ کیسے وارث بن سکتی ہے؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12358
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»