السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: توريث ثلاث جدات متحاذيات أو أكثر باب: تین یا اس سے زائد برابر درجے کی دادیوں کو وارث بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 12358
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَشَيْبَانُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَا فِي أُمِّ أَبِي الْأُمِّ: " لَا تَرِثُ " وَقَالَ دَاوُدُ: عَنِ الشَّعْبِيِّ: " إِنَّمَا الَّذِي تُدْلِي بِهِ لَا يَرِثُ، فَكَيْفَ تَرِثُ هِيَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی، حمید اور حسن سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے پڑدادی کے بارے میں کہا کہ وہ وارث نہیں ہے۔
شعبی سے روایت ہے کہ اس کا بیٹا جو اس سے نزدیک ہے وہ وارث نہیں ہے، تو پڑدادی کیسے وارث بن سکتی ہے؟