کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذوی الارحام (رشتہ داروں) میں سے جو وراثت کے حقدار نہیں ان کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ " ⦗٣٤٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، میں مریض تھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے وضو کے چھینٹے مجھ پر ڈالے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا وارث کلالہ آدمی بنا ہے تو میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ چنانچہ فرائض کی آیت نازل ہوئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَوَجَدَنِي لَا أَعْقِلُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَرَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَنَزَلَتْ فِيَّ {يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی بنی سلمہ میں اور مجھے بے ہوش پایا، نبی ﷺ نے پانی منگوایا، آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر اس سے مجھ پر چھینٹے ڈالے۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال کا کیا کروں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11]۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ".
حافظ ثناء اللہ
شرحبیل بن مسلم خولانی نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، میں نے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دیا ہے، پس وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أهْلِ الْعَالِيَةِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا هَلَكَ وَتَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً، انْطَلِقَ تَقْسِمْ مِيرَاثَهُ، فَتَبِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَقَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ قَالَ: لَا أَرَى يَنْزِلُ عَلَيَّ شَيْءٌ، لَا شَيْءَ لَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل العالیہ میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی فوت ہوا ہے، اس نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے، آپ چلیں اور اس کی وراثت تقسیم کر دیں“، رسول اللہ ﷺ گدھے پر بیٹھ کر آئے اور فرمایا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“۔ پھر تھوڑی دیر چلے۔ پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر کہا: ”میں نہیں خیال کرتا کہ مجھ پر کوئی چیز نازل ہو، ان کے لیے کچھ نہیں ہے“۔
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ إِلَى قُبَاءَ يَسْتَخِيرُ فِي مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ لَا مِيرَاثَ لَهُمَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر قباء کی طرف گئے، آپ ﷺ نے پھوپھی اور خالہ کے بارے میں استخارہ کیا، آپ ﷺ پر نازل ہوا کہ ”ان کے لیے میراث نہیں ہے۔“
سیدنا حارث بن عبد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ ان کے لیے وراثت نہیں ہے۔“
سیدنا حارث بن عبد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ ان کے لیے وراثت نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ، فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " لَا يَرِثُ ابْنُ الْأَخِ لِلْأُمِّ بِرَحِمِهِ ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَا تَرِثُ الْجَدَّةُ أُمُّ أَبِي الْأُمِّ، وَلَا الْخَالَةُ، أَظُنُّهُ قَالَ: وَلَا الْجَدُّ أَبُو الْأُمِّ، وَلَا ابْنَةُ الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَلَا الْعَمَّةُ أُخْتُ الْأَبِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ، وَلَا الْخَالَةُ، وَلَا مَنْ هُوَ أَبْعَدُ نَسَبًا مِنَ الْمُتَوَفَّى مِمَّنْ هُوَ فِي هَذَا الْكِتَابِ، لَا يَرِثُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِرَحِمِهِ ذَلِكَ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ہیں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مفاہیم کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: بھائی کا بیٹا ماں کا وارث نہیں بن سکتا، اور نہ دادی وارث بن سکتی ہے اور نہ نانا وارث بن سکتا ہے، اور نہ بھائی کی بیٹی ماں اور باپ کی وارث بن سکتی ہے اور نہ پھوپھی ماں اور باپ کی وارث بن سکتی ہے اور نہ خالہ اور نہ وہ جو نسب کے اعتبار سے فوت شدہ سے دور ہے، وہ وارث بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے جو کتاب میں نام رکھا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رحم کی وجہ سے وارث نہ بن سکے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ ⦗٣٥١⦘ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ كَانَ قَدِيمًا يُقَالُ لَهُ: ابْنُ مَرْسَا، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَالَ: " يَا يَرْفَأُ، هَلُمَّ الْكِتَابَ " لِكِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ فِي شَأْنِ الْعَمَّةِ يَسْأَلُ عَنْهَا وَيَسْتَخِيرُ فِيهَا، فَأَتَاهُ بِهِ يَرْفَأُ، فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَمَحَا ذَلِكَ الْكِتَابَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: " لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ، لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ ".
حافظ ثناء اللہ
قریش کے ایک غلام جنہیں ابن موسیٰ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب انہوں نے ظہر کی نماز پڑھائی تو کہا: اے یرفاء! وہ خط لاؤ جسے عمر نے پھوپھی کے بارے میں لکھا تھا، سوال جواب تھے۔ جب یرفاء وہ خط لایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دھات کا ایک پیالہ منگوایا، اس میں پانی تھا اور اس میں اس خط کو مٹا دیا، پھر کہا: اگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تو وہ تجھے قائم رکھتا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بِخِلَافِهِ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حزم نے اپنے والد کثیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ پھوپھی کا معاملہ عجب ہے کہ اس کے بھتیجے اس کے وارث ہوتے ہیں لیکن وہ وارث نہیں ہوتی۔