السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لا يرث من ذوي الأرحام باب: ذوی الارحام (رشتہ داروں) میں سے جو وراثت کے حقدار نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12207
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بِخِلَافِهِ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے بارہا سنا، وہ کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ پھوپھی کا معاملہ عجب ہے کہ اس کے بھتیجے اس کے وارث ہوتے ہیں لیکن وہ وارث نہیں ہوتی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔