حدیث نمبر: 12207
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بِخِلَافِهِ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن حزم نے اپنے والد کثیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ پھوپھی کا معاملہ عجب ہے کہ اس کے بھتیجے اس کے وارث ہوتے ہیں لیکن وہ وارث نہیں ہوتی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12207
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»