حدیث نمبر: 12208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ. قَالَ: وَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ. قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ اپنے غلاموں کو تیرنا سکھاؤ اور اپنے فوجیوں کو تیراندازی سکھاؤ، اور وہ مقاصد میں اختلاف کر رہے تھے۔ پس غربی جانب سے ایک تیر آیا اور ایک غلام کو لگا اور اس کو قتل کر دیا، اس کے ماموں کی گود میں اس کی اصل کا پتا نہ چلا، راوی کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور سوال کیا کہ اس کی دیت کس کو دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: «اللّٰهُ وَرَسُولُهُ مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ» ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کے والی ہیں، جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہوگا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 12209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَرُبَّمَا قَالَ: إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرض چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہے“، اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، اور وہ جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے، اور میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور وارث بنوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا۔“
حدیث نمبر: 12210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلِيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کے زیادہ قریب ہوں، اس کی اپنی جان سے بھی۔ جو کوئی آدمی قرض چھوڑے یا اولاد چھوڑے، وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور میں اس کا والی ہوں، جس کا کوئی والی نہ ہو، میں اس کے مال کا وارث ہوں اور اس کے قیدیوں کو آزاد کراؤں گا اور ماموں اس کا والی ہے جس کا کوئی والی نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدیوں کو آزاد کرائے گا۔“
حدیث نمبر: 12211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَفُكُّ عُنِيَّهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَفُكُّ عُنِيَّهُ وَيَرِثُ مَالَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یحییٰ بن مقدام اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا اور اس کے مال کا وارث ہوں اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا اور اس کے مال کا وارث بنے گا۔“
حدیث نمبر: 12212
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَّانِيُّ قَالَ: كَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ " يُبْطِلُ حَدِيثَ: الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْنِي حَدِيثَ الْمِقْدَامِ، وَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ حَدِيثٌ قَوِيٌّ " قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ حدیثِ مقدام رضی اللہ عنہ کو باطل خیال کرتے تھے، یعنی: ”ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 12213
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَالُ وَارِثٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“
حدیث نمبر: 12214
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَالُ وَارِثٌ " هَذَا مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى شَرِيكٍ كَمَا تَرَى، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“
حدیث نمبر: 12215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتُ: " اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَقَدْ كَانَ أَبُو عَاصِمٍ يَرْفَعُهُ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، ثُمَّ شَكَّ فِيهِ؛ فَالرَّفْعُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 12216
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا. وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولَانِ: عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ طَاوُسٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ⦗٣٥٤⦘ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو عاصم رحمہ اللہ نے مرفوع روایت ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 12217
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الدَّحْدَاحِ كَانَ رَجُلًا أَتِيًّا فِي بَنِي أُنَيْفٍ، أَوْ فِي بَنِي الْعَجْلَانِ، مَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَهُ وَارِثٌ؟ " فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى ابْنِ أُخْتِهِ، وَهُوَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَفْظُ حَدِيثِ الْأَرْدَسْتَانِيِّ، وَحَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُخْتَصَرًا، لَمْ يُسَمِّ الْوَارِثَ وَالْمُوَرَّثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ نامی بنی انیف یا بنی عجلان میں ایک اجنبی آدمی تھے، وہ فوت ہو گئے تو نبی ﷺ نے سوال کیا: ”کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ انہوں نے اس کا کوئی وارث نہ پایا تو نبی ﷺ نے اس کی وراثت اس کے بھانجے کو دے دی اور وہ ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 12218
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْيَزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٥٥⦘ الْمُسَيِّبِ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: " فَلَمْ يَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَهُ، فَقُتِلَ شَهِيدًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِيمَا يُثْبِتُ أَصْحَابُنَا فِي بَنَاتِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقِيلَ: نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ فِي بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَهَذَا كُلُّهُ بَعْدَ أَمْرِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ قَالَ الشَّيْخُ: فِيمَا ذَكَرْنَا مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَوْلِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ، فَإِنَّ قَبْلَ أُحُدٍ كَانَ أَبُوهُ حَيًّا، وَإِنَّمَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَخَلَّفَ جَابِرًا وَبَنَاتٍ لَهُ، فَحِينَ مَرِضَ جَابِرٌ كَانَ لَهُ أَخَوَاتٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَبٌ وَلَا وَلَدٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ الْفَرَائِضِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَنَزَلَتِ الَّتِي فِي أَوَّلِهَا فِي ابْنَتَيْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن دحداح تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ قریش کے کفار آگئے احد کے دن۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ان سے لڑے اور شہید کردیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی ﷺ سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے ان کے والد زندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انہوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا: میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو ﴿سورة النساء﴾ کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی ﷺ سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے ان کے والد زندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انہوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا: میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو ﴿سورة النساء﴾ کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 12219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ الزَّمِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا اسْتِفَاءً، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْضِي اللهُ فِي ذَلِكَ "، فَأَنْزَلَ اللهُ الْمِيرَاثَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهِمَا فَدَعَاهُ فَقَالَ: " أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ جو سعد سے تھیں، نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیا گیا تھا، اور ان کے چچا نے ان دونوں کا مال بھی لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ دونوں مال کے بغیر شادی بھی نہیں کر سکتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے آیت المیراث نازل فرمائی۔ آپ ﷺ نے ان کے چچا کو بلایا اور فرمایا: ”سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو اور باقی تیرے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 12220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ زِيَادٌ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ كَيْفَ قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ: " ⦗٣٥٦⦘ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ فِيهَا جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَالْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُخْتِ، فَأَعْطَى الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ " وَرَوَاهُ الْحَسَنُ وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ لِلْعَمَّةِ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْخَالَةِ الثُّلُثَ وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَرَاسِيلُ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ عَنْ عُمَرَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زیاد کے پاس ایک ایسے آدمی کا (کیس) لایا گیا جو فوت ہو چکا تھا اور اس نے (ورثاء میں) پھوپھی اور خالہ چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیسے فیصلہ کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ زیاد نے کہا: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو بھائی کی جگہ رکھا اور خالہ کو بہن کی جگہ رکھا، پس پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حدیث نمبر: 12221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَابْنَةُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّحِمِ الَّتِي تَلِيهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ آبَائِهِمْ، يَقُولُ: وَرِّثْ كُلَّ إِنْسَانٍ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ خالہ ماں کی مانند ہے اور پھوپھی باپ کی جگہ ہے اور بھتیجی بھائی کی جگہ ہے اور ہر محرم رشتہ دار دوسرے ذی رحم کی جگہ پر ہوگا، جو اس سے ملتا ہے جب کوئی قرابت دار وارث نہ ہو۔
(ب) مسروق فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو باپ کی جگہ پر رکھو، وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کو اس کے باپ کی جگہ پر وارث بناؤ۔
(ب) مسروق فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو باپ کی جگہ پر رکھو، وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کو اس کے باپ کی جگہ پر وارث بناؤ۔
حدیث نمبر: 12222
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، كَانَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ " إِذَا لَمْ يَجِدُوا ذَا سَهْمٍ أَعْطَوَا الْقَرَابَةَ أَعْطَوْا بِنْتَ الْبِنْتِ الْمَالَ كُلَّهُ، وَالْخَالَ الْمَالَ كُلَّهُ، وَكَذَلِكَ ابْنَةُ الْأَخِ، وَابْنَةَ الْأُخْتِ لِلْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ، وَالْعَمَّةَ، وَابْنَةَ الْعَمِّ، وَابْنَةَ بِنْتِ الِابْنِ، وَالْجَدَّ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، وَمَا قَرُبَ أَوْ بَعُدَ إِذَا كَانَ رَحِمًا فَلَهُ الْمَالُ إِذَا لَمْ يُوجَدْ غَيْرُهُ، فَإِنْ وُجِدَ ابْنَةُ بِنْتٍ وَابْنَةُ أُخْتٍ فَالنِّصْفُ وَالنِّصْفُ، وِإِنْ كَانَتْ عَمَّةٌ وَخَالَةٌ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ، وَابْنَةُ الْخَالِ وَابْنَةُ الْخَالَةِ الثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما جب کوئی حصہ دار نہ پاتے تو قرابت دار کو دے دیتے، انہوں نے نواسی کو سارا مال دیا اور ماموں کو بھی سارا مال دیا، اس بھتیجی اور بھانجی کو، جو ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے، اسے بھی مال دیا اور پھوپھی اور چچا کی بیٹی اور پوتی اور نانی، جو قریب سے ہو یا دور سے، جب محرم ہو ان سب کو کسی کے نہ ہونے کی صورت میں مال دیا، اگر نواسی پائی جائے اور بھانجی پائی جائے تو نصف نصف دیا جائے گا اور اگر پھوپھی اور خالہ ہوں تو ایک تہائی اور دو تہائی ہوگا اور ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی کو ایک تہائی اور دو تہائی دیا جائے گا۔