حدیث نمبر: 12203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أهْلِ الْعَالِيَةِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا هَلَكَ وَتَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً، انْطَلِقَ تَقْسِمْ مِيرَاثَهُ، فَتَبِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَقَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ سَارَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجُلٌ تَرَكَ عَمَّةً وَخَالَةً "، ثُمَّ قَالَ: لَا أَرَى يَنْزِلُ عَلَيَّ شَيْءٌ، لَا شَيْءَ لَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ

عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل العالیہ میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی فوت ہوا ہے، اس نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے، آپ چلیں اور اس کی وراثت تقسیم کر دیں“، رسول اللہ ﷺ گدھے پر بیٹھ کر آئے اور فرمایا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“۔ پھر تھوڑی دیر چلے۔ پھر کہا: ”اے رب! ایک آدمی نے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے“، پھر کہا: ”میں نہیں خیال کرتا کہ مجھ پر کوئی چیز نازل ہو، ان کے لیے کچھ نہیں ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12203
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»