السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لا يرث من ذوي الأرحام باب: ذوی الارحام (رشتہ داروں) میں سے جو وراثت کے حقدار نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12204
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ إِلَى قُبَاءَ يَسْتَخِيرُ فِي مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ لَا مِيرَاثَ لَهُمَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر قباء کی طرف گئے، آپ ﷺ نے پھوپھی اور خالہ کے بارے میں استخارہ کیا، آپ ﷺ پر نازل ہوا کہ ”ان کے لیے میراث نہیں ہے۔“
سیدنا حارث بن عبد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ ان کے لیے وراثت نہیں ہے۔“