کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: کفر میں بچہ اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے، پھر جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کے تابع ہوگا
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنَاتَجُ الْإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولُ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: " اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے والدین اسے یہودی بنا لیں یا نصرانی بنا لیں۔ جس طرح اونٹ صحیح بچہ جنم دیتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کان کٹا دیکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے جو بچپن میں ہی فوت ہو جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کو بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12137
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1358
تخریج حدیث «بخاري 1358۔ مسلم 2658»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْأَخْرَمُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ فِي بَنِي آدَمَ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ " ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} [الروم: ٣٠] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بنی آدم کا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیں، جس طرح جانور صحیح سالم بچہ جنم دیتا ہے، کیا تم اس میں کوئی کان کٹا محسوس کرتے ہو؟“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو (یہ آیت) پڑھو: ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الروم: 30] ”اللہ کی فطرت (اختیار کرو) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدائش کو تبدیل نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12138
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، أَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں۔“ پھر حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ، فَهَلْ ⦗٣٣٤⦘ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا؟ " قَالُوا: يَا رَسُولُ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: " اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی بچہ پیدا ہو وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا لیں۔ جس طرح جانور بچے جنتے ہیں، کیا تم اس میں کبھی کان کٹا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اسے کاٹتے ہو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، جو بچپن میں فوت ہو جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12140
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبِينَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ "، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ؟ يَعْنِي مَاتَ، قَالَ: " اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى الْأَعْمَشِ، فَقَالَ عَنْهُ جَرِيرٌ: إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَقَالَ عَنْهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ: عَلَى الْإِسْلَامِ. وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَرْوِي هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الْمَعْنَى عِنْدَهُ لَا عَلَى اللَّفْظِ الْمَرْوِيِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بچہ ایسا نہیں ہے مگر وہ اسی ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے واضح کر دے، پس اس کے والدین اسے یہودی بنا لیتے ہیں یا عیسائی یا مشرک یا مجوسی۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو اس سے پہلے ہی فوت ہو جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ اعمال کرنے والے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12141
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ، أَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر پیدا کرتی ہے، اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اگر وہ دونوں مسلمان ہوں تو وہ بھی مسلمان ہو گا، ہر انسان کو جب اس کی ماں جنتی ہے تو شیطان اسے کچوکے لگاتا ہے اس کی پسلیوں میں، مگر مریم اور ان کا بیٹا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْ نَفْسِهِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: " فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ "، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَيَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَيْنِ؛ الْإِيمَانَ أَوِ الْكُفْرَ، لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ، إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ، فَمَا كَانَ آبَاؤُهُمْ يَوْمَ يُولَدُونَ فَهُوَ بِحَالِهِ، إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَى إِيمَانِهِ، أَوْ كَافِرٌ فَعَلَى كُفْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے اپنا اظہار کرے۔ اسے اس کے والدین یہودی بنا لیتے ہیں یا عیسائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہ ہے کہ نبی ﷺ کا قول ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس حال میں رکھا کہ جب تک وہ زبان سے واضح بات نہ کریں اور ایمان اور کفر کے دونوں قولوں میں سے کسی کو اختیار نہ کر لیں، ان پر فی نفسہٖ کوئی حکم نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے ان کے آباء والا حکم ہے۔ جس دن وہ پیدا ہوئے اس دن ان کے آباء جس حال میں تھے وہی ان کا حال ہے، اگر وہ مومن تھے تو وہ اپنے ایمان پر ہوگا اور اگر وہ کافر تھے تو وہ اپنے کفر پر ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 1578۔ الدارمي2463»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٣٣٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُفَسِّرُ حَدِيثَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} [الأعراف: ١٧٢].
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن منہال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حماد بن سلمہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ اس حدیث کی تفسیر فرما رہے تھے «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ» ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے“، انہوں نے فرمایا: یہ اس وقت سے ہمارے ہاں ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے آباء کی پشتوں سے وعدہ لیا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ﴾ [سورة الأعراف: 172] ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12144
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 4716»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ " قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: لَا يُخْرِجَانِهِ مِنْ عِلْمِ اللهِ، وَإِلَى عِلْمِ اللهِ يَصِيرُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔“
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ دونوں اسے اللہ کے علم سے نہیں نکال سکتے اور سب اللہ ہی کے علم کی طرف لوٹتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12145
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»