السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: الولد يتبع أبويه في الكفر، فإذا أسلم أحدهما تبعه الولد في الإسلام باب: کفر میں بچہ اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے، پھر جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کے تابع ہوگا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْ نَفْسِهِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: " فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ "، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَيَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَيْنِ؛ الْإِيمَانَ أَوِ الْكُفْرَ، لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ، إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ، فَمَا كَانَ آبَاؤُهُمْ يَوْمَ يُولَدُونَ فَهُوَ بِحَالِهِ، إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَى إِيمَانِهِ، أَوْ كَافِرٌ فَعَلَى كُفْرِهِ.سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے اپنا اظہار کرے۔ اسے اس کے والدین یہودی بنا لیتے ہیں یا عیسائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہ ہے کہ نبی ﷺ کا قول ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس حال میں رکھا کہ جب تک وہ زبان سے واضح بات نہ کریں اور ایمان اور کفر کے دونوں قولوں میں سے کسی کو اختیار نہ کر لیں، ان پر فی نفسہٖ کوئی حکم نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے ان کے آباء والا حکم ہے۔ جس دن وہ پیدا ہوئے اس دن ان کے آباء جس حال میں تھے وہی ان کا حال ہے، اگر وہ مومن تھے تو وہ اپنے ایمان پر ہوگا اور اگر وہ کافر تھے تو وہ اپنے کفر پر ہوگا۔