حدیث نمبر: 12143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْ نَفْسِهِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: " فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ "، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَيَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَيْنِ؛ الْإِيمَانَ أَوِ الْكُفْرَ، لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ، إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ، فَمَا كَانَ آبَاؤُهُمْ يَوْمَ يُولَدُونَ فَهُوَ بِحَالِهِ، إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَى إِيمَانِهِ، أَوْ كَافِرٌ فَعَلَى كُفْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کو پھیر لیا جائے۔ اسے اس کے والدین یہودی بنا لیتے ہیں یا عیسائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہ ہے کہ نبی ﷺ کا قول ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے ان کی وضاحت فرمائی کہ جب تک ان پر بات واضح نہ کر دی جائے۔ پس وہ اختیار کر لیں ایمان اور کفر کے دونوں قولوں میں سے کسی کو۔ ان پر فی نفسہٖ کوئی حکم نہیں ہے، لیکن ان کے لیے ان کے آباء والا حکم ہے۔ جس دن وہ پیدا کیے گئے تھے، پس وہ اسی حال میں ہوں گے۔ اگر وہ مومن تھے تو مومن ہوں گے، اگر وہ کافر تھے تو وہ کفر پر ہوں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 1578۔ الدارمي2463»