کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا: لاوارث بچہ آزاد ہے اور اس پر کسی کی ولاء (حقِ ملکیت) نہیں ہے
حدیث نمبر: 12135
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”ولاء (کا حق) صرف اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حدیث نمبر: 12135
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ " قَضَى فِي اللَّقِيطِ أَنَّهُ حُرٌّ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ} [يوسف: ٢٠] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لقیط کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ آزاد ہے اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ [سورة يوسف: 20] ”پھر انہوں نے اسے تھوڑی قیمت چند گنتی کے درہموں کے بدلے میں بیچ ڈالا اور وہ اس (یوسف) میں بے رغبتی کرنے والے تھے۔“
حدیث نمبر: 12136
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَسُئِلَ عَنِ اللَّقِيطِ: أَيُبَاعُ؟ فَقَالَ: " أَبَى اللهُ ذَلِكَ، أَمَا تَقْرَأُ سُورَةَ يُوسُفَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
جہیر بن یزید عبدی فرماتے ہیں: میں نے حسن رحمہ اللہ سے سنا، ان سے لقیط کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اسے بیچا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ نے اس سے انکار کیا ہے، کیا آپ نے سورہ یوسف نہیں پڑھی؟