کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے ان بعض افراد کا ذکر جو اپنے والدین یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان ہو گئے
حدیث نمبر: 12146
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الطَّسْتِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " وَاللهِ مَا عَقَلْتُ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَمَا مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ قَطُّ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وُلِدَتْ عَلَى الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ أَبَاهَا أَسْلَمَ فِي ابْتِدَاءِ الْمَبْعَثِ، وَثَابِتٌ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سِتٍّ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانَ عَشْرَةَ، لَكِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وُلِدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ بِإِسْلَامِ أَبِيهَا؛ لِأَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَوَضَعَتْهُ بِقُبَاءَ، فَلَمْ تُرْضِعْهُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّكَهُ وَدَعَا لَهُ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تو میں نے اپنے والدین کو اسلام پر ہی پایا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن صبح اور شام رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر نہ آئے ہوں۔“
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسلام پر پیدا ہوئیں اس لیے کہ ان کے والدین ابتدا ہی سے اسلام پر تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی اس وقت نو سال تھی اور جب آپ ﷺ فوت ہوئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ لیکن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما جاہلیت میں پیدا ہوئیں۔ پھر اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان ہوئیں، اس لیے کہ انہوں نے جب نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حاملہ تھیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے ان (ابن زبیر) کو قباء میں جنم دیا۔ انہیں دودھ نہ پلایا یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے پاس لے آئیں۔ آپ ﷺ نے ان کے تالو کو کوئی چیز لگائی (گھٹی دی) اور ان کے لیے دعا کی اور وہ اسلام کے پہلے بچے تھے جو مدینہ آنے کے بعد پیدا ہوئے۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسلام پر پیدا ہوئیں اس لیے کہ ان کے والدین ابتدا ہی سے اسلام پر تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی اس وقت نو سال تھی اور جب آپ ﷺ فوت ہوئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ لیکن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما جاہلیت میں پیدا ہوئیں۔ پھر اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان ہوئیں، اس لیے کہ انہوں نے جب نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی، اس وقت وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حاملہ تھیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے ان (ابن زبیر) کو قباء میں جنم دیا۔ انہیں دودھ نہ پلایا یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے پاس لے آئیں۔ آپ ﷺ نے ان کے تالو کو کوئی چیز لگائی (گھٹی دی) اور ان کے لیے دعا کی اور وہ اسلام کے پہلے بچے تھے جو مدینہ آنے کے بعد پیدا ہوئے۔
حدیث نمبر: 12147
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: " فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَنَّكَهُ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ " ⦗٣٣٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، زَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ: فَلَمْ تُرْضِعْهُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ مَنْدَهْ حِكَايَةً عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْ عَائِشَةَ بِعَشْرِ سِنِينَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِسْلَامُ أُمِّ أَسْمَاءَ تَأَخَّرَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَدِمْتُ عَلَى أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فِي حَدِيثٍ ذَكَرَتْهُ، وَهِيَ قُتَيْلَةُ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ، وَلَيْسَتْ بِأُمِّ عَائِشَةَ، فََكَانَ إِسْلَامُ أَسْمَاءَ بِإِسْلَامِ أَبِيهَا دُونَ أُمِّهَا، وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَكَأَنَّهُ كَانَ بَالِغًا حِينَ أَسْلَمَ أَبَوَاهُ، فَلَمْ يَتْبَعْهُمَا فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى أَسْلَمَ بَعْدَ مُدَّةٍ طَوِيلَةٍ، وَكَانَ أَسَنَّ أَوْلَادِ أَبِي بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ میں حاملہ تھی، جب میں (ہجرت کے لیے) نکلی تو میں مکمل مدت والی تھی، میں مدینہ میں قباء پہنچی تو میں نے اسے جنم دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں رکھا، پھر کھجور منگوائی اسے چبایا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے منہ میں رکھا اور اپنا لعابِ دہن بھی ڈالا۔ پس پہلی چیز جو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعابِ دہن تھا، پھر آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا کی اور برکت کی دعا کی اور یہ اسلام میں پہلے بچے تھے جو پیدا ہوئے۔
حدیث نمبر: 12148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، قَالَ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِيعِ، وَكَانَتْ يَتِيمَةً فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَرَأْتُ {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣٣]، فَقَالَتْ: " لَا تَقْرَأْ {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣٣]؛ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ أَبَى الْإِسْلَامَ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ لَا يُوَرِّثَهُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَهُ نَصِيبَهُ " زَادَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: " وَمَا أَسْلَمَ حَتَّى حُمِلَ عَلَى الْإِسْلَامِ بِالسَّيْفِ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ الْوَاقِدِيُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْلَمَ فِي هُدْنَةِ الْحُدَيْبِيَةِ. وَزَعَمَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ هَاجَرَ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْفَتْحِ. وَزَعَمَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنَّ اسْمَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدُ الْعُزَّى، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ. وَزَعَمَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ أَنَّ أُمَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَائِشَةَ أُمُّ رُومَانَ بِنْتَ عَامِرٍ، أَسْلَمَتْ وَحَسُنَ إِسْلَامُهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت داؤد بن حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ام سعد بنت ربیع کے پاس پڑھتا تھا، اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یتیمی کی حالت میں رہ چکی تھیں، میں نے آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] انھوں نے کہا: ”اس طرح نہ پڑھ بلکہ ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ہے“، یہ آیت ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ وہ اسے وراثت سے محروم کر دیں گے، جب وہ مسلمان ہوا تو نبی ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اس کا حصہ اسے دے دیں۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ اسلام پر آمادہ تلوار کے ساتھ ہوا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں واقدی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ حدیبیہ کی صلح کے وقت مسلمان ہوا اور علی بن زید کا خیال ہے کہ اس نے قریش کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فتح مکہ سے پہلے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی اور ابوعبید کا خیال ہے کہ جاہلیت میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام ”عبدالرحمن“ رکھا اور مصعب بن عبداللہ کا خیال ہے کہ ام عبدالرحمن، عائشہ، ام رومان بنت عامر رضی اللہ عنہن اسلام لائیں اور ان کا اسلام بہترین ہے۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ اسلام پر آمادہ تلوار کے ساتھ ہوا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں واقدی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ حدیبیہ کی صلح کے وقت مسلمان ہوا اور علی بن زید کا خیال ہے کہ اس نے قریش کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فتح مکہ سے پہلے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی اور ابوعبید کا خیال ہے کہ جاہلیت میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام ”عبدالرحمن“ رکھا اور مصعب بن عبداللہ کا خیال ہے کہ ام عبدالرحمن، عائشہ، ام رومان بنت عامر رضی اللہ عنہن اسلام لائیں اور ان کا اسلام بہترین ہے۔
حدیث نمبر: 12149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالُوا: صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ، وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَجَاءَ ⦗٣٣٧⦘ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَعَلَيْهِ قَبَاءُ دِيبَاجٍ مُكَفَّفَةٍ بِحَرِيرٍ فَقَالَ: صَبَأَ عُمَرُ، فَمَهْ أَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ، قَالَ: فَعَجِبْتُ مِنْ عِزِّهِ يَوْمَئِذٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ. فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْلَمَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ صَبِيٌّ، فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلَامِهِ، وَذَلِكَ لِمَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ حَفْصَةَ وَعَبْدَ اللهِ أَسْلَمَا قَبْلَ أَبِيهِمَا وَعَبْدُ اللهِ كَانَ صَغِيرًا حِينَئِذٍ، فَإِنَّمَا تَمَّ إِسْلَامُهُ بِإِسْلَامِ أَبِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ مَعَ الْمُشْرِكِينَ وَأُسِرَ، حَتَّى فَدَى نَفْسَهُ وَأَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ”عمر بے دین ہو گیا“ اور میں گھر کی چھت پر تھا، عاص بن وائل میرے پاس آئے جو ریشم کی قبا پہنے ہوئے تھے، کہنے لگے: ”عمر بے دین ہو گئے لیکن میں نے اسے پناہ دی ہوئی ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ بکھر گئے، میں نے بڑا تعجب کیا اس دن آپ کی عزت پر۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابھی بچے تھے، وہ بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مسلمان ہوئے اور یہ اس حدیث کی بنا پر ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن مجھے پیش کیا اور میں اس وقت (14) چودہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا خیال کیا اور کہا گیا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوئے اور عبداللہ اس وقت چھوٹے تھے، ان کا اسلام باپ کے اسلام کی وجہ سے ہوا۔
اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بدر کے دن مشرکوں کے ساتھ نکلے اور قیدی بنا لیے گئے، یہاں تک کہ فدیہ دیا اور اسلام قبول کر لیا۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابھی بچے تھے، وہ بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مسلمان ہوئے اور یہ اس حدیث کی بنا پر ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن مجھے پیش کیا اور میں اس وقت (14) چودہ سال کا تھا، آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا خیال کیا اور کہا گیا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوئے اور عبداللہ اس وقت چھوٹے تھے، ان کا اسلام باپ کے اسلام کی وجہ سے ہوا۔
اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بدر کے دن مشرکوں کے ساتھ نکلے اور قیدی بنا لیے گئے، یہاں تک کہ فدیہ دیا اور اسلام قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 12150
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ائْذَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَلنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ، فَقَالَ: " لَا وَاللهِ لَا تَذَرُونَ دِرْهَمًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِذْ ذَاكَ كَانَ صَبِيًّا صَغِيرًا، إِلَّا أَنَّ أُمَّهُ كَانَتْ أَسْلَمَتْ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلَامِ أُمِّهِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ أُمِّهِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَبِيهِ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں اجازت دے دیں، ہم عباس رضی اللہ عنہ کا فدیہ چھوڑ دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت بچے تھے، مگر ان کی والدہ مسلمان ہوگئی تھیں، چنانچہ عبداللہ بھی ماں کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوگئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ کے ساتھ کمزوروں میں سے تھے، اپنے باپ کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ کے ساتھ کمزوروں میں سے تھے، اپنے باپ کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے۔
حدیث نمبر: 12151
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، كَانَتْ أُمِّي مِنَ النِّسَاءِ، وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں اور میری ماں کمزوروں میں سے تھے، میری ماں عورتوں میں تھی اور میں بچوں میں تھا۔
حدیث نمبر: 12152
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا} [النساء: ٩٨]، قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللهُ تَعَالَى ذِكْرُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 98] کے بارے میں منقول ہے کہ آدمیوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور لوگ جو حیلہ کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ راستہ پاتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں اور میری ماں ان میں سے تھے، جن کو اللہ نے معذور قرار دیا۔“
حدیث نمبر: 12153
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام زیادہ ہوتا ہے، کم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 12154
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاذًا قَالَ، فَذَكَرَهُ كَذَلِكَ مَرْفُوعًا، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ. وَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ حُكْمَ الْإِسْلَامِ يَغْلِبُ، وَمِنْ تَغْلِيبِهِ أَنْ يُحْكَمَ لِلْوَلَدِ بِالْإِسْلَامِ بِإِسْلَامِ أَحَدِ أَبَوَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالوارث رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اسلام غلبہ پا جاتا ہے اور اس کا غلبہ پانا اس طرح ہے کہ بچے کے لیے اسلام کا بھی وہی حکم ہے جو اس کے والدین میں سے کسی کے لیے ہو۔
حدیث نمبر: 12155
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَانَةَ الشَّاهِدُ بِهَمَذَانَ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ النَّسَوِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، ثنا شَبَابُ بْنُ خَيَّاطٍ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَشْرَجٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ جَاءَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو سُفْيَانَ وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سُفْيَانَ، الْإِسْلَامُ أَعَزُّ مِنْ ذَلِكَ الْإِسْلَامُ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَيْحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ: إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا فَالْوَلَدُ مَعَ الْمُسْلِمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عائذ بن عمرو اور سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے دن آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عائذ بن عمرو اور ابوسفیان ہیں، اسلام ان دونوں سے زیادہ عزت والا ہے، اسلام بلند ہوتا ہے اور اس پر کوئی فوقیت نہیں رکھتا۔“
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن رحمہ اللہ، شریح رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو بچہ مسلم کے تابع ہوگا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن رحمہ اللہ، شریح رحمہ اللہ، ابراہیم رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو بچہ مسلم کے تابع ہوگا۔