کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: احیاء (آباد کرنا) کس چیز سے ثابت ہوتا ہے، اور اس میں جس اجر کی امید کی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَمَّرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی کی نہ تھی، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ عروہ نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کا فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور «عِرْقٍ ظَالِمٍ» ”ظالم رگ والے“ کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرُ مَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی اس کے لیے اس میں اجر ہے اور جو روزی کے متلاشی کھا جائیں وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ، زَادَ: " مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ "،.
حافظ ثناء اللہ
یہ الفاظ زائد ہیں: ”وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔“
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَهِيَ لَهُ " ⦗٢٤٥⦘.
حافظ ثناء اللہ
”وہ اس کے لیے ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ، زَادَ: يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ.
حافظ ثناء اللہ
یعنی پرندے اور درندے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی باغ کا احاطہ کیا یا کسی زمین کا تو وہ اسی کی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّاجِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، فِي الشِّعَابِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَطْتُمْ عَلَيْهِ فَهُوَ لَكُمْ وَمَا لَمْ يُحِطْ عَلَيْهِ فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے زمینوں کے بارے میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا تم احاطہ کرلو اور اس کو نشان لگا لو وہ تمہارا ہے، اور جس کا تم احاطہ نہ کرو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَأنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَحْجُرَونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا فَهِيَ لَهُ " زَادَ مَالِكٌ: مَوَاتًا، قَالَ يَحْيَى: كَأَنَّهُ لَمْ يَجْعَلْهَا لَهُ بِالتَّحَجُّرِ حَتَّى يُحْيِيَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پتھروں سے نشان لگایا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جس نے زمین آباد کی وہ اسی کی ہے۔“ یحییٰ کہتے ہیں: ”نہ نشان زدہ کرے یہاں تک کہ اسے آباد کر لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ " جَعَلَ التَّحَجُّرَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَإِنْ تَرَكَهَا حَتَّى يَمْضِيَ ثَلَاثُ سِنِينَ فَأَحْيَاهَا غَيْرُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نشان لگانے کی مدت تین سال مقرر کی، پس اگر وہ چھوڑ دے یہاں تک کہ تین سال گزر جائیں، پھر اس آدمی کے علاوہ کسی اور نے آباد کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ فَضَرَبَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّيَ مِنْ حَقِّهِ، لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفِيرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدْرَانِ " ⦗٢٤٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ إِلَى آخِرِهِ، أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ؛ فَقَدْ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَسَنِ دُونَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن نضلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے صحن میں کھڑے تھے، انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا اور کہا: زمین کوہان کی طرح ہے اور ابن فرقد اسلمی رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ میں اپنا حق اس کے حق سے نہیں پہچانتا، میرے لیے سفید اور اس کے لیے سیاہ ہے اور میری زمین یہاں سے وہاں تک ہے۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہی ہے جس کا احاطہ اس کی دیواروں نے کیا ہے۔ بیشک بنجر زمینوں کو آباد کرنا وہ ہے جو زرعی ہوں یا ان میں گڑھا کھودا گیا ہو یا دیواروں سے ان کا احاطہ کر لیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَكِيمِ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي: " أَنْ أَجِزْ لَهُمْ مَا أَحْيَوْا بِبُنْيَانٍ أَوْ حَرْثٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن رزیق فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا خط پڑھا جو میرے والد کی طرف آیا تھا کہ جو انہوں نے آباد کیا وہ ان کو دیواروں یا کھیتی کے ساتھ دے دو۔