السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما يكون إحياء، وما يرجى فيه من الأجر باب: احیاء (آباد کرنا) کس چیز سے ثابت ہوتا ہے، اور اس میں جس اجر کی امید کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 11823
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَكِيمِ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي: " أَنْ أَجِزْ لَهُمْ مَا أَحْيَوْا بِبُنْيَانٍ أَوْ حَرْثٍ ".حافظ ثناء اللہ
حکیم بن رزیق فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا خط پڑھا جو میرے والد کی طرف آیا تھا کہ جو انہوں نے آباد کیا وہ ان کو دیواروں یا کھیتی کے ساتھ دے دو۔