السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما يكون إحياء، وما يرجى فيه من الأجر باب: احیاء (آباد کرنا) کس چیز سے ثابت ہوتا ہے، اور اس میں جس اجر کی امید کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 11820
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَأنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَحْجُرَونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا فَهِيَ لَهُ " زَادَ مَالِكٌ: مَوَاتًا، قَالَ يَحْيَى: كَأَنَّهُ لَمْ يَجْعَلْهَا لَهُ بِالتَّحَجُّرِ حَتَّى يُحْيِيَهَا.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پتھروں سے نشان لگایا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جس نے زمین آباد کی وہ اسی کی ہے۔“ یحییٰ کہتے ہیں: ”نہ نشان زدہ کرے یہاں تک کہ اسے آباد کر لے۔“