حدیث نمبر: 11822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ فَضَرَبَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّيَ مِنْ حَقِّهِ، لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفِيرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدْرَانِ " ⦗٢٤٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ إِلَى آخِرِهِ، أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ؛ فَقَدْ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَسَنِ دُونَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ بن نضلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے صحن میں کھڑے تھے، انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا اور کہا: زمین کوہان کی طرح ہے اور ابن فرقد اسلمی رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ میں اپنا حق اس کے حق سے نہیں پہچانتا، میرے لیے سفید اور اس کے لیے سیاہ ہے اور میری زمین یہاں سے وہاں تک ہے۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہی ہے جس کا احاطہ اس کی دیواروں نے کیا ہے۔ بیشک بنجر زمینوں کو آباد کرنا وہ ہے جو زرعی ہوں یا ان میں گڑھا کھودا گیا ہو یا دیواروں سے ان کا احاطہ کر لیا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب إحياء الموات / حدیث: 11822
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ امام شافعي 4/46»