أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، وَعُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗٢٤٢⦘ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ "، قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَى الشَّرَفَ وَالرَّبَذَةَ لَفْظُ حَدِيثِ عُبَيْدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چراگاہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں پتہ چلا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نقیع کی چراگاہ تیار کروائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شرف اور ربذہ کی چراگاہ تیار کی۔
زہری کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ تیار کرائی۔
زہری کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ تیار کرائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " قَالَ الزُّهْرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ كَانَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِمًى، بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ يَحْمِيهِ لِإبلِ الصَّدَقَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْحَرَّانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ: " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: هَذَا وَهْمٌ. قَالَ الشَّيْخُ: لِأَنَّ قَوْلَهُ: حَمَى النَّقِيعَ، مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ تَرْعَى فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نقیع کی چراگاہ مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے تیار کروائی کہ ”وہ اس میں چریں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى، ⦗٢٤٣⦘ فَقَالَ لَهُ: " يَا هُنِيُّ، اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ؛ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ، وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ؛ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنِيمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَيْتِهِ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَكَ؟ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيْكَ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ، إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ فِي بِلَادِهِمْ شِبْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہنی نامی غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا حاکم بنایا تو انہیں یہ ہدایت کی کہ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا) اور مظلوم کی بدعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بدعا قبول ہوتی ہے اور ابن عوف اور ابن عفان رضی اللہ عنہما (امیر) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا)؛ کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ امیر لوگ اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے تو وہ اپنے بچوں کو میرے پاس لائے گا اور فریاد کرے گا: یا امیر المومنین! کیا میں انہیں چھوڑ دوں؟ اس لیے (پہلے ہی سے) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور خدا کی قسم! وہ (اہل مدینہ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں، انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ اموال (گھوڑے) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقہ میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلُوا نَحْوَهُ، قَالَ: وَكَرِهَ أَنْ يَقْدَمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ بِالْمُصْحَفِ وَافْتَحِ السَّابِعَةَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللهِ تَفْتَرَونَ}، قَالُوا: لَهُ قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ أَمْ عَلَى اللهِ تَفْتَرِي؟ فَقَالَ: " امْضِهْ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى قَبْلِي لِإبلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ زَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لِمَا زَادَ فِي الصَّدَقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اہل مصر کا وفد آیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا استقبال کیا۔ جب انہوں نے سنا تو وہ بھی متوجہ ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا مدینہ آنا بھی مکروہ خیال کیا۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: مصحف منگواؤ اور ساتویں سورت کی تلاوت کرو (اور سابقہ سورہ یونس کا نام لیتے تھے)۔ آپ نے تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچے: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [سورة يونس: 59] ”کہہ دیں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل کیا پس تم نے اپنی مرضی سے حلال اور حرام بنا لیا ہے کہہ دیں: کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔“ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہر جاؤ! آپ کا کیا خیال ہے آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے؟ کیا اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے یا تم نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے؟ آپ نے کہا: رک جاؤ! یہ آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس رہا چراگاہ کا معاملہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہلے صدقہ کے اونٹوں کے لیے بنائی تھی۔ پس جب میں متوجہ ہوا تو صدقہ کے اونٹ بھی زیادہ ہو گئے اس لیے میں نے چراگاہ میں زیادتی کر دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: اشْتَرَيْتُ إِبِلًا وَأَنْجَعْتُهَا إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا سَمِنَتْ قَدِمْتُ بِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السُّوقَ فَرَأَى إِبِلًا سِمَانًا فَقَالَ: " لِمَنْ هَذِهِ الْإِبِلُ؟ " قِيلَ: لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بَخٍ بَخٍ ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ أَسْعَى فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: " مَا هَذِهِ الْإِبِلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: إِبِلٌ أَنْضَاءُ اشْتَرَيْتُهَا وَبَعَثَتُ بِهَا إِلَى الْحِمَى أَبْتَغِي مَا يَبْتَغِي الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: فَقَالَ: " ارْعَوْا إِبِلَ ابنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، اسْقُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ اغْدُ عَلَى رَأْسِ مَالِكَ وَاجْعَلْ بَاقِيَهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ " ⦗٢٤٤⦘ هَذَا الْأَثَرُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْمِيَ لِنَفْسِهِ، وَفِيهِ وَفِيمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ "، أَرَادَ بِهِ أَنْ لَا حِمَى إِلَّا عَلَى مِثْلِ مَا حَمَى عَلَيْهِ رَسُولُهُ فِي صَلَاحِ الْمُسْلِمِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اونٹ خریدا اور اسے چراگاہ کی طرف لوٹا دیا۔ جب وہ موٹا تازہ ہو گیا تو میں لے آیا، پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے، بازار میں اونٹ دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا اونٹ ہے؟ کہا گیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا۔ آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واہ امیر المومنین کے بیٹے! ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں دوڑتا ہوا آیا، میں نے پوچھا: امیر المومنین! کیا بات ہے؟ کہا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ میں نے کہا: اسے میں نے خریدا اور چراگاہ کی طرف بھیج دیا، جس طرح دوسرے مسلمان کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: (انہوں نے) کہا ہو گا امیر المومنین کے بیٹے کے اونٹ کو چراؤ، امیر المومنین کے بیٹے کے اونٹ کو پلاؤ، پھر کہا: اے ابن عمر! اپنی اصل رقم لے لو اور باقی بیت المال میں داخل کر دو۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے خاص چراگاہ بنائے اور اس میں اور پہلے اثروں میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ”چراگاہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے“ اس سے مراد جو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے چراگاہ ہو۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے خاص چراگاہ بنائے اور اس میں اور پہلے اثروں میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ”چراگاہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے“ اس سے مراد جو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے چراگاہ ہو۔