کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11800
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٢٤١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، أنبأ فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، فَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَمَسَحَ رَأْسِي، وَخَطَّ لِي دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أَزِيدُكَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حارث رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور میں اس وقت جوان تھا، آپ ﷺ نے میرے لیے برکت کی دعا کی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور قوس کی شکل میں میرے لیے مدینہ میں گھر کا خط کھینچا، پھر فرمایا: ”کیا زیادہ کر دوں؟“
حدیث نمبر: 11801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ، فَقَالَ لَهُ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللهُ إِذًا؟ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو گھر الاٹ کیے۔ نبی ﷺ کے ایک قبیلے بنو عمید بن ذھرہ نامی نے آپ سے کہا کہ ہم سے ام عبد کے بیٹے کو دور کردو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے کس لیے بھیجا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس وقت تک امت کو پاک نہیں کرتا جب تک کمزوروں کا حق دوسروں سے لے کر ان تک پہنچا نہیں دیا جاتا۔“
حدیث نمبر: 11802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین الاٹ کی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیق نامی جگہ الاٹ کی تو فرمایا: کہاں ہیں لینے والے؟
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عقیق مدینہ کے قریب ہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عقیق مدینہ کے قریب ہی ہے۔
حدیث نمبر: 11803
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْطَعَ، وَأَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَ النَّاسَ الْعَقِيقَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی جاگیر دی اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عقیق نامی جگہ بطور جاگیر دی۔
حدیث نمبر: 11804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے سر پر کچی کھجوریں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے لائی تھی، جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو بطور جاگیر دی تھی اور وہ زمین مجھ سے دو فرسخ دور تھی۔