السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في الحمى باب: چراگاہ محفوظ کرنے (حمیٰ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى، ⦗٢٤٣⦘ فَقَالَ لَهُ: " يَا هُنِيُّ، اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ؛ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ، وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ؛ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنِيمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَيْتِهِ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَكَ؟ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيْكَ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ، إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ فِي بِلَادِهِمْ شِبْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہنی نامی غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا حاکم بنایا تو انہیں یہ ہدایت کی کہ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا) اور مظلوم کی بدعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بدعا قبول ہوتی ہے اور ابن عوف اور ابن عفان رضی اللہ عنہما (امیر) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا)؛ کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ امیر لوگ اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے تو وہ اپنے بچوں کو میرے پاس لائے گا اور فریاد کرے گا: یا امیر المومنین! کیا میں انہیں چھوڑ دوں؟ اس لیے (پہلے ہی سے) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور خدا کی قسم! وہ (اہل مدینہ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں، انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ اموال (گھوڑے) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقہ میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا۔