السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في الحمى باب: چراگاہ محفوظ کرنے (حمیٰ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: اشْتَرَيْتُ إِبِلًا وَأَنْجَعْتُهَا إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا سَمِنَتْ قَدِمْتُ بِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السُّوقَ فَرَأَى إِبِلًا سِمَانًا فَقَالَ: " لِمَنْ هَذِهِ الْإِبِلُ؟ " قِيلَ: لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بَخٍ بَخٍ ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ أَسْعَى فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: " مَا هَذِهِ الْإِبِلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: إِبِلٌ أَنْضَاءُ اشْتَرَيْتُهَا وَبَعَثَتُ بِهَا إِلَى الْحِمَى أَبْتَغِي مَا يَبْتَغِي الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: فَقَالَ: " ارْعَوْا إِبِلَ ابنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، اسْقُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ اغْدُ عَلَى رَأْسِ مَالِكَ وَاجْعَلْ بَاقِيَهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ " ⦗٢٤٤⦘ هَذَا الْأَثَرُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْمِيَ لِنَفْسِهِ، وَفِيهِ وَفِيمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ "، أَرَادَ بِهِ أَنْ لَا حِمَى إِلَّا عَلَى مِثْلِ مَا حَمَى عَلَيْهِ رَسُولُهُ فِي صَلَاحِ الْمُسْلِمِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اونٹ خریدا اور اسے چراگاہ کی طرف لوٹا دیا۔ جب وہ موٹا تازہ ہو گیا تو میں لے آیا، پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے، بازار میں اونٹ دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا اونٹ ہے؟ کہا گیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا۔ آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واہ امیر المومنین کے بیٹے! ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں دوڑتا ہوا آیا، میں نے پوچھا: امیر المومنین! کیا بات ہے؟ کہا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ میں نے کہا: اسے میں نے خریدا اور چراگاہ کی طرف بھیج دیا، جس طرح دوسرے مسلمان کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: (انہوں نے) کہا ہو گا امیر المومنین کے بیٹے کے اونٹ کو چراؤ، امیر المومنین کے بیٹے کے اونٹ کو پلاؤ، پھر کہا: اے ابن عمر! اپنی اصل رقم لے لو اور باقی بیت المال میں داخل کر دو۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے خاص چراگاہ بنائے اور اس میں اور پہلے اثروں میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ”چراگاہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے“ اس سے مراد جو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے چراگاہ ہو۔