کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان منکر (غیر مستند) الفاظ کی روایت کا بیان جنہیں بعض فقہاء شفعہ کے مسائل میں ذکر کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُوَيْدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شُفْعَةَ لِغَائِبٍ، وَلَا صَغِيرٍ، وَلَا شَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ، إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حقِ شفعہ غائب کے لیے، بچے کے لیے اور شریک کے شریک کے لیے جب وہ خریدنے میں سبقت لے جائے نہیں ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ قَالَ: وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَزَادَ: " وَالشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ”شفعہ گرہ کھلنے کی طرح ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ قَالَ: وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا شُفْعَةَ لِصَبِيٍّ، وَلَا لِغَائِبٍ، وَإِذَا سَبَقَ الشَّرِيكُ شَرِيكَهُ بِالشُّفْعَةِ فَلَا شُفْعَةَ، وَالشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حارث رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شفعہ بچے کے لیے نہیں ہے اور نہ غائب کے لیے اور جب شریک اپنے شریک سے شفعہ میں سبقت لے جائے تو شفعہ نہیں ہے اور شفعہ گرہ کی طرح ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ لَا تَرِثُ وَلَا تُورَثُ " مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ مَتْرُوكٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ ضَعِيفٌ، ضَعَّفَهُمَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَئِمَّةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ رُوِيَ فِي مُعَارَضَةِ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا: " الصَّبِيُّ عَلَى شُفْعَتِهِ حَتَّى يُدْرِكَ "، وَكِلَاهُمَا مُنْكَرَانِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شفعہ نہ وارث بنتا ہے اور نہ وراثت میں منتقل ہوتا ہے۔“
(ب) ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”بچہ حقِ شفعہ رکھتا ہے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔“ دونوں منکر روایات ہیں۔
محمد بن حارث بصری متروک ہے اور محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ضعیف ہے، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ب) ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”بچہ حقِ شفعہ رکھتا ہے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔“ دونوں منکر روایات ہیں۔
محمد بن حارث بصری متروک ہے اور محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ضعیف ہے، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ⦗١٧٩⦘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّبِيُّ عَلَى شُفْعَتِهِ حَتَّى يُدْرِكَ، فَإِذَا أَدْرَكَ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَمَنْ دُونَهُ إِلَى شَيْخِ شَيْخِنَا لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ حقِ شفعہ رکھتا ہے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے، جب بالغ ہو جائے تو اگر چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“
اسے روایت کرنے میں عبداللہ بن بزیع منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، اور اس سے نیچے ہمارے شیخ کے شیخ تک کے دونوں راویوں سے دلیل نہیں لی جاتی۔
اسے روایت کرنے میں عبداللہ بن بزیع منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، اور اس سے نیچے ہمارے شیخ کے شیخ تک کے دونوں راویوں سے دلیل نہیں لی جاتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا حَفْصٌ الرَّبَالِيُّ، ثنا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا شُفْعَةَ لِلنَّصْرَانِيِّ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَحَادِيثُ نَائِلٍ مُظْلِمَةٌ جِدًّا، وَخَاصَّةً إِذَا رَوَى عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عیسائی کے لیے حق شفعہ نہیں ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: نائل کی احادیث نہایت تاریک (ناقابلِ اعتماد) ہیں، خاص طور پر جب وہ ثوری سے روایت کرے۔
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: نائل کی احادیث نہایت تاریک (ناقابلِ اعتماد) ہیں، خاص طور پر جب وہ ثوری سے روایت کرے۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرَّاجُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أُخْرَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْحَدِيثُ عِنْدَ سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " لَيْسَ لِلْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ شُفْعَةٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ، هَذَا هُوَ الصَّوَابُ مِنْ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَضَى بِالشُّفْعَةِ لِذِمِّيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
نائل بن نجیح نے پچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، ایک دفعہ مرفوع اور دوسری دفعہ موقوف۔
اصل میں یہ حدیث سفیان کے پاس حمید طویل عن حسن کی سند سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی کے لیے شفعہ نہیں ہے۔“ درست یہی ہے کہ یہ حسن کا قول ہے۔
اصل میں یہ حدیث سفیان کے پاس حمید طویل عن حسن کی سند سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی کے لیے شفعہ نہیں ہے۔“ درست یہی ہے کہ یہ حسن کا قول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى " أَنَّ الْغَائِبَ عَلَى شُفْعَتِهِ إِذَا قَدِمَ، وَيَرَى الصَّغِيرَ عَلَى شُفْعَتِهِ إِذَا كَبِرَ، قَالَ: وَلَيْسَ فِي الْحَيَوَانِ شُفْعَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ کا خیال تھا کہ غائب حق شفعہ رکھتا ہے جب وہ آ جائے، اور بچے کے بارے میں فرماتے تھے: جب وہ بڑا ہو جائے اور حیوان میں شفعہ نہیں ہے۔