السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: رواية ألفاظ منكرة يذكرها بعض الفقهاء في مسائل الشفعة باب: ان منکر (غیر مستند) الفاظ کی روایت کا بیان جنہیں بعض فقہاء شفعہ کے مسائل میں ذکر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11587
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُوَيْدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شُفْعَةَ لِغَائِبٍ، وَلَا صَغِيرٍ، وَلَا شَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ، إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حقِ شفعہ غائب کے لیے، بچے کے لیے اور شریک کے شریک کے لیے جب وہ خریدنے میں سبقت لے جائے نہیں ہے۔“