السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: رواية ألفاظ منكرة يذكرها بعض الفقهاء في مسائل الشفعة باب: ان منکر (غیر مستند) الفاظ کی روایت کا بیان جنہیں بعض فقہاء شفعہ کے مسائل میں ذکر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11589
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ قَالَ: وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا شُفْعَةَ لِصَبِيٍّ، وَلَا لِغَائِبٍ، وَإِذَا سَبَقَ الشَّرِيكُ شَرِيكَهُ بِالشُّفْعَةِ فَلَا شُفْعَةَ، وَالشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن حارث رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شفعہ بچے کے لیے نہیں ہے اور نہ غائب کے لیے اور جب شریک اپنے شریک سے شفعہ میں سبقت لے جائے تو شفعہ نہیں ہے اور شفعہ گرہ کی طرح ہے۔“