کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں عمارت بنائی یا پودا لگایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَهُ نَقْضُهُ، وَإِنْ بَنَى بِإِذْنِهِمْ فَلَهُ قِيمَتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر عمارت بنائی تو اسے اکھاڑ دیا جائے گا اور اگر ان کی اجازت سے بنائی تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔
" قَالَ: وَحَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قِيمَتُهُ يَوْمَ يُخْرِجُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کی قیمت وہ ہوگی جس دن سے اسے نکالا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الْعَبَّاسُ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ شُرَيْحٍ: " مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِإِذْنِهِمْ فَلَهُ قِيمَةُ بِنَائِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جو کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے ساتھ عمارت بنائے، تو اس کے لیے اس کی قیمت ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ شُرَيْحٍ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ. وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ وَلَا يَثْبُتُ.
حافظ ثناء اللہ
قاضی شریح رحمہ اللہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح منقول ہے۔
اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔
اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا كَثِيرُ بْنُ أَبِي صَابِرٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَنَى فِي رِبَاعِ قَوْمٍ بِإِذْنِهِمْ فَلَهُ الْقِيمَةُ، وَمَنْ بَنَى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَهُ النَّقْضُ " عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَمَنْ دُونَهُ أَيْضًا ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں عمارت بنائی ان کی اجازت سے تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی اور جس نے بغیر اجازت بنائی اسے اکھاڑ دیا جائے گا۔“
عمر بن قیس مکی ضعیف ہے، اس سے دلیل نہیں لی جاتی، اور اس سے نیچے کے راوی بھی ضعیف ہیں۔
عمر بن قیس مکی ضعیف ہے، اس سے دلیل نہیں لی جاتی، اور اس سے نیچے کے راوی بھی ضعیف ہیں۔