کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11493
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]، وَقَالَ {وَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ} [إبراهيم: 42].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔“ [سورة البقرة: 188]
اور فرمایا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ﴾ ”اور ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو ظالم کر رہے ہیں، وہ تو انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں (دہشت سے) کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔“ [سورة إبراهيم: 42]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11493
حدیث نمبر: 11493
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنِ يُوسُفَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلَا أِيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ: " أِيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ: " تَعْلَمُونَ أِيَّ يَوْمٍ أَعْظَمَ؟ " قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ: " فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِي هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ: أَلَا نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”سنو! تم کس مہینے کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اپنے اس (ذوالحجہ) مہینے کو۔ پھر فرمایا: ”کس شہر کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اس شہر (مکہ) کو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو، کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے؟“ انھوں نے کہا: ہمارا یہ دن (حج کا دن)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تم پر حرام کر دیا ہے، تمہارے خون، مال اور عزتوں کو مگر حق کے ساتھ جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبردار! کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟“ تین دفعہ پوچھا، سب نے ہاں میں جواب دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11493
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 6785، مسلم 66
تخریج حدیث «بخاري 6785، مسلم 66»
حدیث نمبر: 11494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أِيُّ بَلَدٍ "، " أَلَا أِيُّ يَوْمٍ " وَقَالَ: " أَلَا شَهْرُنَا هَذَا "، " أَلَا بَلَدُنَا هَذَا "، " أَلَا يَوْمُنَا هَذَا "، وَزَادَ فِيهِ: " مِنْ شَهْرِكُمْ هَذَا "، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَ: " وَيْحَكُمْ " أَوْ " وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ایک سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون سا شہر اور کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے؟“ اور فرمایا: ”ہمارا یہ مہینہ، ہمارا یہ شہر، ہمارا یہ دن۔“ اور یہ بھی اضافہ ہے کہ ”تمہارے اس مہینے میں ایک زیادتی یہ بھی ہے کہ ہلاکت ہوگی تمہارے لیے! میرے بعد تم کفر میں نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگ جاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11494
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ السَّرِيِّ الرَّافِقِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عُمَرَ هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ "، فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: " ⦗١٥٣⦘ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ: " أَتَدْرُونَ أِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَتَدْرُونَ أِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟ " فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ بَيْنَكُمْ مِثْلُ يَوْمِكُمْ، فِي مِثْلِ شَهْرِكُمْ، فِي مِثْلِ بَلَدِكُمْ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، مَرَّتَيْنِ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ "، ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهَا، بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ، وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حجۃ الوداع کا دن تھا، رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، پھر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ ﷺ اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ ہم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ حج کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تمہارا مال، عزتیں اور تمہارے خون آپس میں حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ خبردار! جو حاضر ہے اسے غائب تک پہنچا دینا چاہیے۔“ یہ دو مرتبہ فرمایا۔ ”بسا اوقات جسے پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ اپنی اونٹنی کی طرف مائل ہوئے، غنیمتوں کی طرف آئے، ایک بکری دو آدمیوں کے درمیان آپ ﷺ تقسیم کرنے لگے اور تین کے درمیان بھی ایک بکری۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11495
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1742، مسلم 1679
تخریج حدیث «بخاري 1742، مسلم 1679»
حدیث نمبر: 11496
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَا هُنَا، يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم آپس میں حسد نہ کرو، نہ بغض رکھو اور نہ دشمنی رکھو اور پیٹھ کے پیچھے کسی کی برائی بیان نہ کرو اور نہ تم اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرو اور اللہ کے بندے! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ حقیر خیال کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے،“ آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا، ”آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے۔ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، عزت اور مال حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11496
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2564
تخریج حدیث «مسلم 2564»
حدیث نمبر: 11497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ غَيْرِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور کا بغیر اجازت دودھ نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے پینے کا برتن لایا جائے اور اسے توڑ دیا جائے، پھر اس کا پانی اور کھانا بہہ جائے؟ اسی طرح ان کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لیے ان کی غذا کا خزانہ ہوتے ہیں، ان میں ان کی غذا ہوتی ہے، لہٰذا کوئی شخص بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس جانور کا دودھ نہ نکالے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11497
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2435، مسلم 1726
تخریج حدیث «بخاري 2435، مسلم 1726»
حدیث نمبر: 11498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ الْهَمَذَانِيُّ فِي الْمَرْجِعِ مِنْ مَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أبِي إِيَاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11498
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2474
تخریج حدیث «بخاري 2474»
حدیث نمبر: 11499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سائب بن یزید رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا مال جھانسا دے کر نہ لے اور جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی چھڑی لے تو اسے واپس کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11499
حدیث نمبر: 11500
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11500
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2447، مسلم 2579
تخریج حدیث «بخاري 2447، مسلم 2579»
حدیث نمبر: 11501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اتَّقُوا الظُّلْمَ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ؛ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم سے بچو، بیشک ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ہے اور بخل سے بچو، بیشک بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو اس پر ابھارا، پھر انہوں نے خون بہائے اور حرام کو حلال کر دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11501
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2578
تخریج حدیث «مسلم 2578»
حدیث نمبر: 11502
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ " وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔۔۔ اس کے آخر میں فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچنا، بیشک اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11502
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2448، مسلم 19
تخریج حدیث «بخاري 2448، مسلم 19»
حدیث نمبر: 11503
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سَنَةَ أَرْبَعِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا، يَا عِبَادِي إِنَّكُمُ الَّذِينَ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلَا أُبَالِي، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، ⦗١٥٥⦘ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ لَمْ يَزِدْ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ، لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْبَحْرُ يُغْمَسُ فِيهِ الْمِخْيَطُ غَمْسَةً وَاحِدَةً، يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أَحْفَظُهَا عَلَيْكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْهِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہرایا ہے، پس ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم دن رات غلطیاں کرتے ہو، میں غلطیوں کو معاف کرتا ہوں اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے، تم مجھ سے معافی مانگو میں معاف کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جسے میں پہنا دوں، پس مجھ سے پہننے کے لیے مانگو میں تمہیں پہنا دوں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب متقی بن جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ زیادتی نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب برے بن جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور مجھ سے سوال کریں، پھر میں ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہ آئے گی جتنی سوئی کے ناکے کو سمندر میں ڈبونے سے آتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں میں نے ان کو تمہارے لیے محفوظ کیا ہوا ہے، جو خیر پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ کوئی اور چیز پائے تو وہ اپنے علاوہ کسی اور کو ملامت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11503
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2577
تخریج حدیث «مسلم 2577»
حدیث نمبر: 11504
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذْفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى عَنْهُ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ " فَيُقْضَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور نہ ساز و سامان ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا اور اس کے علاوہ دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، پس اس کی نیکیاں ان کو (جس پر ظلم کیا ہوگا) دے دی جائیں گی اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی لیکن ابھی بدلے لینے والے موجود ہوں گے تو ان کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11504
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2582
تخریج حدیث «مسلم 2582»
حدیث نمبر: 11505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن ضرور حق والوں کو ان کا حق دو گے یہاں تک کہ سینگ والی بکری بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ بھی دے گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11505
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2582
تخریج حدیث «مسلم 2582»
حدیث نمبر: 11506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا يَكُونُ بَيْنَنَا مَعَ خَوَاصِّ ⦗١٥٦⦘ الذُّنُوبِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، لَتُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ "، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ، إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] ”بے شک آپ فوت ہونے والے ہیں اور بے شک وہ بھی فوت ہوں گے“ نازل ہوئی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم پر ہمارے گناہوں کو لوٹایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں ضرور تم پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ ہر حق والے کو اس کا حق بھی لوٹایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11506
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسناد
تخریج حدیث «منكر الاسناد»
حدیث نمبر: 11507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي الظَّالِمَ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} [هود: ١٠٢] " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے ہیں حتیٰ کہ جب پکڑ لیتے ہیں پھر اسے نہیں چھوڑتے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾ [سورة هود: 102] ”اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ کسی بستی کو پکڑتا ہے اس حال میں کہ وہ ظلم کر رہی ہو، یقیناً اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11507
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 4686، مسلم 2584
تخریج حدیث «بخاري 4686، مسلم 2584»