کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”(عاریت پر) تاوان نہیں ڈالا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو ⦗١٥٠⦘ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، وَحَبِيبٍ، وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ شُرَيْحًا قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَوْدَعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ، وَلَا عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي مِنْ قَوْلِهِ..
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس شخص کے پاس امانت رکھی گئی ہو، جب تک وہ خیانت کرنے والا نہ ہو، اس پر کوئی تاوان نہیں ہے اور نہ عاریتاً لینے والے پر، جب تک وہ خیانت کرنے والا نہ ہو، کوئی تاوان ہے۔
قاضی شریح سے ان کے اپنے قول کے طور پر یہی محفوظ ہے۔
قاضی شریح سے ان کے اپنے قول کے طور پر یہی محفوظ ہے۔
وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، فَذَكَرَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: عَمْرٌو وَعُبَيْدَةُ ضَعِيفَانِ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي غَيْرَ مَرْفُوعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔ (یہ روایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے نبی ﷺ سے مرفوعاً بھی منقول ہے۔)
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: عمرو اور عبیدہ دونوں ضعیف ہیں، اور یہ صرف قاضی شریح سے غیر مرفوع منقول ہے۔
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: عمرو اور عبیدہ دونوں ضعیف ہیں، اور یہ صرف قاضی شریح سے غیر مرفوع منقول ہے۔