کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بالغ افراد پر بے وقوفی (فضول خرچی) کی بنا پر پابندی (حجر) عائد کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ} [البقرة: 282]، قَالَ الشَّافِعِيُّ فَأَثْبَتَ الْوِلَايَةَ عَلَى السَّفِيهِ وَالضَّعِيفِ وَالَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ، وَأَمَرَ وَلِيَّهُ بِالْإِمْلَاءِ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ﴾ ”پھر اگر وہ شخص جس کے ذمے حق ہے کم عقل ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوائے۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے کم عقل، کمزور اور اس شخص پر جو لکھوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، ولایت ثابت فرمائی، اور اس کے ولی کو اس کی طرف سے لکھوانے کا حکم دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11335
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَثَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّلْحِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَاضِيهِمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَى أَرْضًا بِسِتِّمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَهَمَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ أَنْ يَحْجُرَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ فَقَالَ: " مَا اشْتَرَى أَحَدٌ بَيْعًا أَرْخَصَ مِمَّا اشْتَرَيْتَ "، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ اللهِ الْحَجْرَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ عِنْدِي مَالًا لَشَارَكْتُكَ " قَالَ: فَإِنِّي أُقْرِضُكَ نِصْفَ الْمَالِ، قَالَ: " فَإِنِّي شَرِيكُكَ " قَالَ: فَأَتَاهُمَا عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَهُمَا يَتَرَاوَضَانِ، قَالَ: مَا تَرَاوَضَانِ؟ فَذَكَرَا لَهُ الْحَجْرَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: أَتَحْجُرَانِ عَلَى رَجُلٍ أَنَا شَرِيكُهُ؟ قَالَا: " لَا لَعَمْرِي " قَالَ: فَإِنِّي شَرِيكُهُ، فَتَرَكَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے چھ لاکھ درہم کی زمین خریدی، سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اس پر مالی تصرف کی پابندی لگانے کا ارادہ کرلیا۔ فرماتے ہیں: میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے کہا: تم نے جتنی سستی بیع کی ہے اتنی سستی بیع کسی اور نے نہیں کی ہوگی، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر پابندی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: اگر مال میرے پاس ہوتا تو میں تیرا شریک ہوتا۔ اس نے کہا: میں آپ کو نصف مال قرضے کے طور پر دیتا ہوں تو انہوں نے کہا: پھر میں آپ کا شریک ہوں۔ کہتے ہیں کہ پھر دونوں کے پاس سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آئے، وہ دونوں بحث کر رہے تھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس چیز پر بحث کر رہے ہو؟ تو انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ پر پابندی کا تذکرہ کیا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اپنے آدمی پر پابندی لگاتے ہو جس کا میں شریک ہوں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! فرمایا: میں اس کا شریک ہوں، پھر پابندی ختم ہوگئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11335
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ، أَتَى الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ عَلِيًّا يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ⦗١٠٢⦘ عُثْمَانَ، يَعْنِي فَيَسْأَلَهُ أَنْ يَحْجُرَ عَلَيَّ فِيهِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا شَرِيكُكَ فِي الْبَيْعِ وَأَتَى عَلِيٌّ عُثْمَانَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَيْفَ أَحْجُرُ عَلَى رَجُلٍ فِي بَيْعٍ شَرِيكُهُ فِيهِ الزُّبَيْرُ؟ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَطْلُبُ الْحَجْرَ إِلَّا وَهُوَ يَرَاهُ، وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَوْ كَانَ الْحَجْرُ بَاطِلًا قَالَ: لَا يُحْجَرُ عَلَى بَالِغٍ حُرٍّ، وَكَذَلِكَ عُثْمَانُ، بَلْ كُلُّهُمْ يَعْرِفُ الْحَجْرَ فِي حَدِيثِ صَاحِبِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”میں نے فلاں فلاں چیز خریدی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ، امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر مالی پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیع میں میں تیرا شریک ہوں“، پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ بات انہیں بیان کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس آدمی پر کیسے مالی پابندی لگاؤں جس کا شریک زبیر ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پابندی کا مطالبہ کیا؛ کیونکہ ان کا موقف تھا کہ بالغ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور اگر بالغ پر پابندی جائز نہ ہوتی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے کہ بالغ آزاد پر پابندی نہیں ہو سکتی، اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، ان سب کا موقف تھا کہ بالغ پر پابندی ہو سکتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11336
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، ح قَالَ: وَأنبأ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حُدِّثَتْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا "، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: " وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أَحْنَثُ فِي النَّذْرِ الَّذِي نَذَرْتُهُ "، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ لَمَا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ؛ فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " ادْخُلُوا "، فَقَالُوا: كُلُّنَا، قَالَتْ: " نَعَمْ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ "، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَإِنَّهُ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ "، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ: " إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ، وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ "، فَلَمْ يَزَالِا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ثُمَّ تَبْكِي حَتَّى تَبُلُّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا تُنْكِرُ الْحَجْرَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ يَرَاهُ، وَقَدْ كَانَ الْحَجْرُ مَعْرُوفًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرْوَى عَنْهُ إِنْكَارُهُ، ⦗١٠٣⦘ وَدَلَّ عَلَى ذَلِكَ مَا.
حافظ ثناء اللہ
عوف بن حارث بن طفیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، ان کے بھانجے تھے، کہنے لگے: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیے، نہیں تو اللہ کی قسم! میں ان کے لیے حجر (پابندی) کا حکم کر دوں گا۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”پھر میں نذر مانتی ہوں کہ ابن زبیر (رضی اللہ عنہما) سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔“ اس کے بعد ان کے قطعِ تعلق پر جب عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش تسلیم نہیں کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔“ جب یہ قطعِ تعلق سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گیا تو انہوں نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبداللہ بن اسود رضی اللہ عنہما سے اس سلسلے میں بات کی۔ وہ دونوں بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں: ”کسی طرح تم مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ؛ کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں۔“ چنانچہ سیدنا مسور اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آ جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”ہم سب؟“ کہا: ”ہاں، سب آ جاؤ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ نہ تھا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ساتھ ہیں، جب یہ اندر گئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر داخل ہو گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر رونے لگے اور اللہ کا واسطہ دینے لگے، اور سیدنا مسور اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں۔ ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی ﷺ نے قطعِ تعلقی سے منع فرمایا ہے کہ: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطعِ تعلقی کرے۔“ جب ان کا تکرار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زیادہ ہو گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں: ”میں نے تو قسم کھائی ہے اور قسم کا معاملہ سخت ہے“، لیکن یہ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم توڑنے پر چالیس غلام آزاد کیے، اس کے بعد جب بھی یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ شیخ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حجر کا انکار نہیں کرتی تھیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی خیال تھا اور حجر رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے بھی معروف تھا، کسی سے اس کا انکار منقول نہیں ہے، یہ اسی پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11337
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري :6075»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ؛ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ: هَا وَهَا وَلَا خِلَابَةَ " لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَايِعُ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ، وَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ لَمْ يَرَهُ بِمَحَلِّ الْحَجْرِ عَلَيْهِ، وَفِي تَرْكِ إِنْكَارِ الْحَجْرِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْحَجْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی بیع کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں فتور تھا (کم سمجھ دار تھا) اس کے گھر والے نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! فلاں پر پابندی لگا دیں کیونکہ وہ سودا کرتا ہے اور اس کی عقل میں فتور ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا پس اسے منع کر دیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا کہ میں خرید و فروخت نہ کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چھوڑ نہیں سکتا تو سودا کرتے وقت کہہ دیا کر اس میں کوئی دھوکا فریب نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11338
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: " السَّفِيهُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ وَالْمَمْلُوكُ طَلَاقُهُمَا جَائِزٌ، وَعِتَاقُهُمَا بَاطِلٌ، إِلَّا أَنَّ السَّفِيهَ يُعْتِقُ أُمَّ وَلَدِهِ إِنْ شَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
فقہائے مدینہ فرماتے ہیں: بے وقوف اور غلام دونوں کی طلاق جائز ہے اور ان دونوں کا آزاد کرنا باطل ہے، مگر بے وقوف اگر چاہے تو ام ولد کو آزاد کر سکتا ہے اور گویا جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو اسے پابندی کے لائق نہ سمجھا اور ان کا حجر کے ترک میں پابندی کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11339
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد 3/2317: 3309»