السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: الحجر على البالغين بالسفه باب: بالغ افراد پر بے وقوفی (فضول خرچی) کی بنا پر پابندی (حجر) عائد کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ} [البقرة: 282]، قَالَ الشَّافِعِيُّ فَأَثْبَتَ الْوِلَايَةَ عَلَى السَّفِيهِ وَالضَّعِيفِ وَالَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ، وَأَمَرَ وَلِيَّهُ بِالْإِمْلَاءِ عَلَيْهِ.اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ﴾ ”پھر اگر وہ شخص جس کے ذمے حق ہے کم عقل ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوائے۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے کم عقل، کمزور اور اس شخص پر جو لکھوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، ولایت ثابت فرمائی، اور اس کے ولی کو اس کی طرف سے لکھوانے کا حکم دیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَثَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّلْحِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَاضِيهِمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَى أَرْضًا بِسِتِّمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَهَمَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ أَنْ يَحْجُرَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ فَقَالَ: " مَا اشْتَرَى أَحَدٌ بَيْعًا أَرْخَصَ مِمَّا اشْتَرَيْتَ "، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ اللهِ الْحَجْرَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ عِنْدِي مَالًا لَشَارَكْتُكَ " قَالَ: فَإِنِّي أُقْرِضُكَ نِصْفَ الْمَالِ، قَالَ: " فَإِنِّي شَرِيكُكَ " قَالَ: فَأَتَاهُمَا عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَهُمَا يَتَرَاوَضَانِ، قَالَ: مَا تَرَاوَضَانِ؟ فَذَكَرَا لَهُ الْحَجْرَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: أَتَحْجُرَانِ عَلَى رَجُلٍ أَنَا شَرِيكُهُ؟ قَالَا: " لَا لَعَمْرِي " قَالَ: فَإِنِّي شَرِيكُهُ، فَتَرَكَهُ.حضرت عمرو بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے چھ لاکھ درہم کی زمین خریدی، سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اس پر مالی تصرف کی پابندی لگانے کا ارادہ کرلیا۔ فرماتے ہیں: میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے کہا: تم نے جتنی سستی بیع کی ہے اتنی سستی بیع کسی اور نے نہیں کی ہوگی، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر پابندی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: اگر مال میرے پاس ہوتا تو میں تیرا شریک ہوتا۔ اس نے کہا: میں آپ کو نصف مال قرضے کے طور پر دیتا ہوں تو انہوں نے کہا: پھر میں آپ کا شریک ہوں۔ کہتے ہیں کہ پھر دونوں کے پاس سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آئے، وہ دونوں بحث کر رہے تھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس چیز پر بحث کر رہے ہو؟ تو انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ پر پابندی کا تذکرہ کیا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اپنے آدمی پر پابندی لگاتے ہو جس کا میں شریک ہوں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! فرمایا: میں اس کا شریک ہوں، پھر پابندی ختم ہوگئی۔