حدیث نمبر: 11339
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: " السَّفِيهُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ وَالْمَمْلُوكُ طَلَاقُهُمَا جَائِزٌ، وَعِتَاقُهُمَا بَاطِلٌ، إِلَّا أَنَّ السَّفِيهَ يُعْتِقُ أُمَّ وَلَدِهِ إِنْ شَاءَ.
حافظ ثناء اللہ

فقہائے مدینہ فرماتے ہیں: بے وقوف اور غلام دونوں کی طلاق جائز ہے اور ان دونوں کا آزاد کرنا باطل ہے، مگر بے وقوف اگر چاہے تو ام ولد کو آزاد کر سکتا ہے اور گویا جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو اسے پابندی کے لائق نہ سمجھا اور ان کا حجر کے ترک میں پابندی کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11339
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد 3/2317: 3309»