السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: الحجر على البالغين بالسفه باب: بالغ افراد پر بے وقوفی (فضول خرچی) کی بنا پر پابندی (حجر) عائد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، ح قَالَ: وَأنبأ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حُدِّثَتْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا "، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: " وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أَحْنَثُ فِي النَّذْرِ الَّذِي نَذَرْتُهُ "، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ لَمَا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ؛ فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " ادْخُلُوا "، فَقَالُوا: كُلُّنَا، قَالَتْ: " نَعَمْ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ "، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَإِنَّهُ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ "، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ: " إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ، وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ "، فَلَمْ يَزَالِا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ثُمَّ تَبْكِي حَتَّى تَبُلُّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا تُنْكِرُ الْحَجْرَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ يَرَاهُ، وَقَدْ كَانَ الْحَجْرُ مَعْرُوفًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرْوَى عَنْهُ إِنْكَارُهُ، ⦗١٠٣⦘ وَدَلَّ عَلَى ذَلِكَ مَا.عوف بن حارث بن طفیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، ان کے بھانجے تھے، کہنے لگے: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیے، نہیں تو اللہ کی قسم! میں ان کے لیے حجر (پابندی) کا حکم کر دوں گا۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”پھر میں نذر مانتی ہوں کہ ابن زبیر (رضی اللہ عنہما) سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔“ اس کے بعد ان کے قطعِ تعلق پر جب عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش تسلیم نہیں کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔“ جب یہ قطعِ تعلق سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گیا تو انہوں نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبداللہ بن اسود رضی اللہ عنہما سے اس سلسلے میں بات کی۔ وہ دونوں بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں: ”کسی طرح تم مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ؛ کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں۔“ چنانچہ سیدنا مسور اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آ جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”ہم سب؟“ کہا: ”ہاں، سب آ جاؤ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ نہ تھا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ساتھ ہیں، جب یہ اندر گئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر داخل ہو گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر رونے لگے اور اللہ کا واسطہ دینے لگے، اور سیدنا مسور اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں۔ ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی ﷺ نے قطعِ تعلقی سے منع فرمایا ہے کہ: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطعِ تعلقی کرے۔“ جب ان کا تکرار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زیادہ ہو گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں: ”میں نے تو قسم کھائی ہے اور قسم کا معاملہ سخت ہے“، لیکن یہ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم توڑنے پر چالیس غلام آزاد کیے، اس کے بعد جب بھی یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ شیخ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حجر کا انکار نہیں کرتی تھیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی خیال تھا اور حجر رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے بھی معروف تھا، کسی سے اس کا انکار منقول نہیں ہے، یہ اسی پر دلالت کرتا ہے۔