❮
❯
حدیث نمبر: 11338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ؛ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ: هَا وَهَا وَلَا خِلَابَةَ " لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَايِعُ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ، وَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ لَمْ يَرَهُ بِمَحَلِّ الْحَجْرِ عَلَيْهِ، وَفِي تَرْكِ إِنْكَارِ الْحَجْرِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْحَجْرِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی بیع کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں فتور تھا (کم سمجھ دار تھا) اس کے گھر والے نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! فلاں پر پابندی لگا دیں کیونکہ وہ سودا کرتا ہے اور اس کی عقل میں فتور ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا پس اسے منع کر دیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا کہ میں خرید و فروخت نہ کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چھوڑ نہیں سکتا تو سودا کرتے وقت کہہ دیا کر: ہاتھوں ہاتھ لین دین ہے اور اس میں کوئی دھوکا فریب نہیں ہوگا۔“
گویا جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو اسے پابندی کے لائق نہ سمجھا، اور حجر پر انکار نہ کرنے میں حجر کے جواز کی دلیل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11338