کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گندم، جو، کشمش، زیتون کا تیل، کپڑے اور ہر اس چیز میں بیعِ سلم کا بیان جسے صفات کے ذریعے متعین کیا جا سکتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدٍ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ: أَكُنْتُمْ تُسْلِمُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " كُنَّا نُسْلِمُ إِلَى نَبِيطِ الشَّامِ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ، فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " قُلْتُ: إِلَى مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ؟ قَالَ: " مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ " قَالَ: وَبَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَقَالَا: سَلْهُ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ فَقَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُونَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى نَبِيطِ الشَّامِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَمَا كَانُوا يَسْأَلُونَ: أَلَكُمْ حَرْثٌ أَمْ لَا؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ فَقَالَ الزَّيْتَ بَدَلَ الزَّبِيبِ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُجَالِدٍ فَقَالَ: وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَشَكَّ فِي الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. وَرَوَاهُ زَائِدَةُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ فَقَالَ: وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد رحمہما اللہ نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں جا کر پوچھوں: کیا تم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گندم، جو اور کشمش میں بیع سلف کرتے تھے؟ میں نے جا کر پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم شام کے نبطیوں سے جو، گندم اور کشمش میں معلوم وزن میں مدت مقررہ میں بیع سلم کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: جن کی کھیتی ہوتی تھی ان سے بیع کرتے تھے؟ کہنے لگے: ہم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔ محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے مجھے عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے پوچھیے: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابہ کرام گندم، جو اور کشمش میں بیع سلم کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی! جب وزن، مقدار اور مدت معلوم ہوتی تب کیا کرتے تھے اور وہ یہ نہیں پوچھتے تھے کہ تمہارے پاس کھیتی اگ گئی ہے یا نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي السَّلَفِ فِي الْكَرَابِيسِ، قَالَ: " إِذَا كَانَ زَرْعٌ مَعْلُومٌ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ فَلَا بَأْسَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موٹے سوتی کپڑے کی بیعِ سلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب وزن اور مدت معلوم ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ يُسْلِمَ فِي اللَّحْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گوشت میں بیعِ سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔