حدیث نمبر: 11125
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَكَيْفَ كَانَ يُبَاعُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: اللهُ أَعْلَمُ، أَمَا الَّذِي أَدْرَكْنَا الْمُتَبَايِعِينَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ مِنْهُ يُبَاعُ كَيْلًا، وَالْجُمْلَةُ الْكَثِيرَةُ تُبَاعُ وَزْنًا، وَدِلَالَةُ الْأَخْبَارِ عَلَى مِثْلِ مَا أَدْرَكْنَا النَّاسَ عَلَيْهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا آكُلُ السَّمْنَ مَا دَامَ السَّمْنُ يُبَاعُ بِالْأَوَاقِ، وَتُشْبِهُ الْأَوَاقِ أَنْ تَكُونَ كَيْلًا.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی کہنے والا کہے: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں (یہ چیز) کس طرح فروخت کی جاتی تھی؟ تو ہم کہیں گے: اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ جس طریقے پر ہم نے خرید و فروخت کرنے والوں کو پایا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی تھوڑی مقدار ناپ کر بیچی جاتی ہے اور بڑی مقدار وزن کر کے بیچی جاتی ہے، اور روایات کی دلالت بھی اسی طریقے کے مطابق ہے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک گھی اواق (اوقیوں) کے حساب سے بیچا جاتا رہے گا میں گھی نہیں کھاؤں گا۔“
اور اواق اس بات کے مشابہ ہیں کہ یہ ناپ (کا پیمانہ) ہوں۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَتَمُرَّنَنَّ أَيُّهَا الْبَطْنُ عَلَى الْخُبْزِ وَالزَّيْتِ مَا دَامَ السَّمْنُ يُبَاعُ بِالْأَوَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس روٹی اور تیل لایا گیا، آپ نے فرمایا: اے پیٹ! جب تک گھی اوقیوں میں بیچا جائے گا تجھے روٹی اور تیل ہی پر گزارہ کرنا ہوگا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11125
درجۂ حدیث محدثین: اخرجه ابن سعيد 3/314
تخریج حدیث «اخرجه ابن سعيد 3/314»