کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ معلوم قیمت کے بدلے معلوم ماپ یا معلوم وزن میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے نہ ہو، اور اگر یہ معلوم مدت تک کے لیے ہو تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗٤١⦘ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا سَلَفَ إِلَى الْعَطَاءِ، وَلَا إِلَى الْحَصَادِ، وَلَا إِلَى الْأَنْدَرِ، وَلَا إِلَى الْعَصِيرِ، وَاضْرِبْ لَهُ أَجَلًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ کہہ کر بیع کرنا کہ جب عطیہ ملے گا یا جب فصل کاٹی جائے گی یا جب کھلیان لگے گا یا جب انگور نچوڑے جائیں گے اس وقت ادائیگی کروں گا تو اس قسم کی بیع جائز نہیں ہے، بلکہ میعاد مقرر ہونی چاہیے۔
حدیث نمبر: 11116
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا الْقَاضِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَرِهَ السَّلَمَ إِلَى الْحَصَادِ وَالْقَصِيلِ وَالْبَيْدَرِ، وَلَكِنْ سَمِّهِ شَهْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس بیعِ سلم کو جو کھیتی کے کاٹے جانے تک ہو، یا مکمل اگ آنے پر، یا جب فصل کھلیان میں ہوگی، اس وقت تک کی بیعِ سلم کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مہینے کا نام لے کر مدت مقرر کی جائے۔
حدیث نمبر: 11117
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " السَّلَمُ كَمَا يَقُومُ السِّعْرُ رِبًا، وَلَكِنْ كَيْلٌ مَعْلُومٌ، إِلَىْ أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَاسْتَكْثِرْ مَا اسْتَطَعْتَ " وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " أَسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَاسْتَكْثِرْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیع سلم جیسے بھی اس کا نرخ مقرر کیا جائے وہ سود ہے، مگر جب پیمانہ معلوم ہو اور مدت معلوم ہو اور جتنا ہو سکے ان چیزوں میں اضافہ کریں، اور عبد الرزاق کی ایک روایت میں ہے کہ وزن معلوم اور مدت معلوم میں بیع سلف کرو اور اس قسم کی چیزوں میں جتنا ہو سکے اضافہ کرو۔
حدیث نمبر: 11118
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعَ أَبَا عَبِيدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ بِسِعْرِ الْبَيْدَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کھلیان کے ریٹ کے ساتھ گندم کی بیع کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11119
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ إِلَى يُسْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی کوئی چیز خریدے اور کہے کہ جب میسر ہوگی تو قیمت ادا کر دوں گا۔
حدیث نمبر: 11120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: كَانَتْ لِي عَلَى رَجُلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ عِنْدِي، وَلَكِنِ اكْتُبْهَا عَلَى طَعَامٍ إِلَى الْحَصَادِ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ ".
حافظ ثناء اللہ
کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے فلاں آدمی سے کچھ درہم لینے تھے، میں اس کے پاس لینے کے لیے گیا تو اس نے کہا: میرے پاس اس وقت تو کچھ نہیں ہے، تو ایسا کر جب فصلیں کاٹی جائیں گی اس وقت آنا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کی یہ بات درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11121
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَتْ ⦗٤٢⦘ عَائِشَةُ: قَدِمَ تَاجِرٌ بِمَتَاعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَلْقَيْتَ هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ الْغَلِيظَيْنِ عَنْكَ وَأَرْسَلْتَ إِلَى فُلَانٍ التَّاجِرِ فَبَاعَكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ أَرْسِلْ إِلِيَّ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ "، فَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنِّي أَدَّاهُمْ لِلْأَمَانَةِ، وَأَخْشَاهُمْ لِلَّهِ " وَنَحْوُ هَذَا فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ اسْتَدْعَى الْبَيْعَ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، لَا أَنَّهُ عَقَدَ إِلَيْهَا بَيْعًا، ثُمَّ لَوْ أَجَابَهُ إِلَى ذَلِكَ أَشْبَهَ أَنْ يُوَقِّتَ وَقْتًا مَعْلُومًا أَوْ يَعْقِدَ الْبَيْعَ مُطْلَقًا ثُمَّ يَقْضِيَهُ مَتَى مَا أَيْسَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ تاجر سامان لے کر آئے، میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ یہ پرانے کپڑے پہننا چھوڑ دیں اور نئے خرید لیں اور جب آپ کے پاس پیسے آجائیں تو اس کی ادائیگی کرلینا، نبی ﷺ نے اس تاجر کی طرف پیغام بھیجا کہ ”دو کپڑے دے دو، میں آپ کو خوشحالی کے دنوں میں ان کی رقم واپس کر دوں گا“۔ وہ کہنے لگا: محمد ﷺ میرا مال کھانا چاہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جانتے بھی ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ امین اور متقی ہوں“۔ یہ اس بات پر محمول ہوگا کہ آپ نے آفر کی تھی، لیکن اس نے انکار کردیا، آپ نے بیع پکی نہیں کی تھی۔ پھر اگر وہ اجازت دے بھی دیتا تو اس بات کی زیادہ توقع تھی کہ آپ ﷺ وقت مقرر کرتے یا پھر مطلق بیع کرتے، پھر جب وسعت آتی تو ادا کرتے۔