کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ وہ اس سے بہتر وصول کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْرِطْ إِلَّا قَضَاءَهُ " وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، عَنْ نَافِعٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے قرض دیا، وہ صرف اس کی ادائیگی کی شرط لگائے، اس کے علاوہ کوئی شرط نہ رکھے۔
بعض ضعیف راویوں نے اسے نافع سے مرفوع بیان کیا ہے، اور یہ کوئی چیز نہیں۔
بعض ضعیف راویوں نے اسے نافع سے مرفوع بیان کیا ہے، اور یہ کوئی چیز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " فَذَلِكَ الرِّبَا "، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " السَّلَفُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ: سَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ فَلَكَ وَجْهُ اللهِ، وَسَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ، وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا "، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: " أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قِبْلَتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ مَا أَسْلَفْتَهُ، فَأَخَذْتَهُ أُجَرْتَ، وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے کسی کو قرض دیا ہے اور اس پر اس سے بہتر ادا کرنے کی شرط رکھی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سود ہے، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ قرض تین قسم کا ہے: 1۔ جس سے تو اللہ کی رضا چاہتا ہو، تو تیرے لیے اللہ کی رضا ہے۔ 2۔ جس سے تو اپنے ساتھی کی رضا چاہتا ہو، تو تیرے لیے تیرے ساتھی کی رضا ہے۔ 3۔ وہ قرض جو تو اس لیے دیتا ہے کہ پاکیزہ کے بدلے خبیث لے، یہ سود ہے۔ اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میری رائے ہے کہ آپ معاہدے کا ورق پھاڑ ڈالیں، اگر وہ اتنا ہی واپس کرے جتنا آپ نے قرض دیا ہے تو قبول کرلینا۔ اگر اس سے کم ادا کرے اور آپ قبول کر لیں تو اجر ملے گا۔ اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے بہتر واپس کرتا ہے تو یہ شکر ہے، جو اس نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور آپ کو ڈھیل کی وجہ سے اجر ملے گا۔
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا ابْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ مَسْعُودٍ: إِنِّي اسْتَسْلَفْتُ مِنْ رَجُلٍ خَمْسَمِائَةٍ عَلَى أَنْ أُعِيرَهُ ظَهْرَ فَرَسِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَا أَصَابَ مِنْهُ فَهُوَ رِبًا " ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کسی سے 500 اس شرط پر قرض لیا ہے کہ میں اپنا گھوڑا عاریتاً ان کو سواری کے لیے دوں گا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جو اس سے فائدہ حاصل ہو وہ سود ہے۔
ابن سیرین کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔
ابن سیرین کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔