کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ”اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ وہ اس سے بہتر وصول کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْرِطْ إِلَّا قَضَاءَهُ " وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، عَنْ نَافِعٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے قرض وصول کیا، صرف اس کی ادائیگی کو دے، اس کے علاوہ کوئی شرط نہ رکھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " فَذَلِكَ الرِّبَا "، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " السَّلَفُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ: سَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ فَلَكَ وَجْهُ اللهِ، وَسَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ، وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا "، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: " أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قِبْلَتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ مَا أَسْلَفْتَهُ، فَأَخَذْتَهُ أُجَرْتَ، وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے کسی سے قرض لیا ہے، اس سے بہتر ادا کرنے کی شرط رکھی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سود ہے، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ قرض تین قسم کا ہے: 1۔ جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ 2۔ جس سے تو اپنے ساتھی کی رضا چاہتا ہو 3۔ ایسا پاکیزہ رزق جس سے تو خبیث کی چاہت رکھتا ہو۔ یہ سود ہے۔ اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: آپ معاہدے کے ورق پھاڑ ڈالیں، اگرچہ قرض آپ نے دیا ہے، ویسا ہی واپس کرے تو قبول کرلینا۔ اگر اس کے علاوہ ادا کرے یعنی گھٹیا تو پھر آپ قبول کرتے ہیں تو اجر ملے گا۔ اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے بہتر واپس کرتا ہے تو یہ شکر ہے، جو اس نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور آپ کو ڈھیل کی وجہ سے اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10937
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه مالك 1362»
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا ابْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ مَسْعُودٍ: إِنِّي اسْتَسْلَفْتُ مِنْ رَجُلٍ خَمْسَمِائَةٍ عَلَى أَنْ أُعِيرَهُ ظَهْرَ فَرَسِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَا أَصَابَ مِنْهُ فَهُوَ رِبًا " ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں کسی سے قرض اس شرط پر وصول کروں کہ میں اپنا گھوڑا عاریتاً ان کو سواری کے لیے دوں؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جو اس سے فائدہ حاصل ہو وہ سود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10938
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه مالك 1362»