کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ: " انْطَلِقْ مَعِي الْمَنْزِلَ فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ "، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَقَانِي سَوِيقًا، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا وَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ لِي: " إِنَّكَ فِي أَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ وَإنَّ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا أَنَّ أَحَدَكُمْ يُقْرِضُ الْقَرْضَ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا بَلَغَ أَتَاهُ بِهِ وَبِسَلَّةٍ فِيهَا هَدِيَّةٌ فَاتَّقِ تِلْكَ السَّلَّةَ وَمَا فِيهَا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے ملا، انہوں نے کہا: میرے ساتھ گھر چلو میں تجھے اس پیالے میں نوش کراؤں جس میں رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا اور آپ اس جگہ نماز پڑھیں جہاں آپ ﷺ نے پڑھی تھی۔ میں ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجوریں کھلائیں۔ میں نے اس مسجد میں نماز پڑھی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ سود کے علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہے اور سود کا دروازہ یہ ہے کہ جب کوئی قرض مقررہ مدت کے لیے دیتا ہے، جب مدت ختم ہوتی ہے تو وہ قرض واپس کرنے کے لیے آتا ہے، اس کی ٹوکری ہدیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تو اس ٹوکری اور سامان سے بچو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10926
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6910»
حدیث نمبر: 10927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تَجِيءُ إِلَى الْبَيْتِ حَتَّى أُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا؟ " فَذَهَبْنَا فَأَطْعَمَنَا سَوِيقًا وَتَمْرًا ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ فَإِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حَبَلَةً مِنْ عَلَفٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ حَبَلَةً مِنْ تُبْنٍ فَلَا تَقْبَلْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الرِّبَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ. وَرُوِّينَا عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قِصَّةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْقَرْضِ وَالْهَدِيَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آکر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: کیا آپ گھر نہیں آئیں گے کہ میں آپ کو ستو اور کھجور کھلاؤں؟ ہم گئے تو انہوں نے ہمیں ستو اور کھجوریں کھلائیں، پھر فرمایا: آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں سود عام ہے، جب کسی آدمی کے ذمہ قرض ہو اور وہ آپ کو رسی میں باندھی خشک گھاس یا جَو کا گٹھا یا بھوسہ ہدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کرنا، کیونکہ یہ سود ہے۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس کے مشابہ قصہ بیان کیا ہے جو قرض اور ہدیہ کے مشابہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10927
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3603»
حدیث نمبر: 10928
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي كُلْثُومُ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فَآتِي الْعِرَاقَ فَأُقْرِضُ، قَالَ: " إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا كَثِيرٌ فَاشٍ فَإِذَا أَقْرَضْتَ رَجُلًا فَأَهْدَى إِلَيْكَ هَدِيَّةً، فَخُذْ قَرْضَكَ وَارْدُدْ إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومنذر! میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، میں نے عراق میں آکر قرض لیا۔ انہوں نے کہا: آپ سودی علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہوتا ہے، جب آپ کسی کو قرض دیں اور وہ آپ کو ہدیہ دے تو اپنا قرض واپس لو اور ہدیہ واپس کر دو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10928
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 14652»
حدیث نمبر: 10929
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَهْدَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ ثَمَرَةِ أَرْضِهِ فَرَدَّهَا، فَقَالَ أُبَيٌّ: " لِمَ رَدَدْتَ عَلَيَّ هَدِيَّتِي، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنِّي مِنْ أَطْيَبِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَمَرَةً؟، خُذْ عَنِّي مَا تَرُدُّ عَلَيَّ هَدِيَّتِي " وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْلَفَهُ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی زمین کا پھل تحفہ میں دیا، انہوں نے واپس کر دیا، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرا ہدیہ واپس کیوں کیا؟ آپ جانتے ہیں کہ اہل مدینہ سے میرا پھل عمدہ ہوتا ہے، میرا ہدیہ قبول کریں۔ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دس ہزار درہم قرض دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10929
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 10930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، فَجَعَلَ يُهْدِي إِلَيْهِ وَجَعَلَ كُلَّمَا أَهْدَى إِلَيْهِ هَدِيَّةً بَاعَهَا حَتَّى بَلَغَ ثَمَنُهَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَا تَأْخُذْ مِنْهُ إِلَّا سَبْعَةَ دَرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا دوسرے کے ذمہ ۲۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو تحفہ دیتا، وہ جب بھی تحفہ دیتا وہ اس کو فروخت کر دیتا، یہاں تک کہ اس کی قیمت ۱۳ درہم تک پہنچ گئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے سات درہم وصول کر لو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10930
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 10931
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: ⦗٥٧٣⦘ كَانَ لَنَا جَارٌ سَمَّاكٌ عَلَيْهِ لِرَجُلٍ خَمْسُونَ دِرْهَمًا، فَكَانَ يُهْدِي إِلَيْهِ السَّمَكَ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " قَاصِّهِ بِمَا أَهْدَى إِلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن ابی جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ مچھلی فروش (سماک) تھا، اس کے ذمہ ۵۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو مچھلی ہدیہ میں دیتا رہا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کا حساب کر جو اس نے ہدیہ دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10931
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10932
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَخَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْتَقْرِضَ أَفْقَرَ الْمُقْرِضَ ظَهْرَ دَابَّتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِ دَابَّتِهِ فَهُوَ رِبًا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَذْهَبُ إِلَى أَنَّهُ قَرْضٌ جَرَّ مَنْفَعَةً، قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا أَقْرَضَ رَجُلًا دَرَاهِمَ وَشَرَطَ عَلَيْهِ ظَهْرَ فَرَسِهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِهِ فَهُوَ رِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان سے سوال ہوا کہ ایک آدمی نے دوسرے سے چند درہم بطور قرض وصول کیے، پھر قرض دینے والے کو مقروض کی سواری کی ضرورت پڑ گئی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا ہے، وہ سود ہے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا قرض جو نفع کا سبب ہے، وہ سود ہے۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے چند درہم قرض لیے اور اس کے گھوڑے پر سواری کی شرط لگائی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا، تو انہوں نے فرمایا: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا، وہ سود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10932
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 10933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ وَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الرِّبَا " مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرض جو نفع کا سبب بنے وہ سود کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10933
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 10934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا، فَأُهْدِيَ إِلَيْهِ طَبَقٌ فَلَا يَقْبَلْهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى دَابَّةٍ فَلَا يَرْكَبْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " كَذَا قَالَ..
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اے ابو ہمزہ! ایک آدمی قرض لیتا ہے، پھر وہ قرض دینے والے کو ہدیہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں قرض دیا جائے، پھر اس کے عوض کوئی تحفہ ملے یا سواری ملے تو اسے قبول نہ کرے الا یہ کہ ان کا آپس میں پہلے سے کوئی تعلق ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10934
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابن ماجه 2432»
حدیث نمبر: 10935
وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، قَالَ الْمَعْمَرِيُّ: قَالَ هِشَامٌ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيُّ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا وَهِمَ، وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، ⦗٥٧٤⦘ ورَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ فَوَقَفَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10935