السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا خير أن يسلفه سلفا على أن يقبضه خيرا منه باب: ”اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ وہ اس سے بہتر وصول کرے گا“۔
حدیث نمبر: 10936
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْرِطْ إِلَّا قَضَاءَهُ " وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، عَنْ نَافِعٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے قرض دیا، وہ صرف اس کی ادائیگی کی شرط لگائے، اس کے علاوہ کوئی شرط نہ رکھے۔
بعض ضعیف راویوں نے اسے نافع سے مرفوع بیان کیا ہے، اور یہ کوئی چیز نہیں۔