کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 10939
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ أَصْحَابُهُ بِهِ فَقَالَ: " دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، اشْتَرُوا لَهُ ⦗٥٧٥⦘ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ " قَالُوا: إِنَّا نَجِدُ لَهُ سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ: " اشْتَرُوا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سختی سے قرض کا مطالبہ کیا، صحابہ اس پر طیش میں آ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حق والے کو بات کا بھی حق ہے، اس کو اونٹ خرید کر دو۔“ انہوں نے کہا: ہم اس کے اونٹ سے بہتر عمر کا پاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو وہی خرید کر دو، تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھا ہے۔“
حدیث نمبر: 10940
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَاسْتَسْلَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ وَسْقٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَتَقَاضَاهُ فَأَعْطَاهُ وَسْقًا، وَقَالَ: " نِصْفٌ لَكَ قَضَاءٌ وَنِصْفُ لَكَ نَائِلٌ مِنْ عِنْدِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا تو آپ ﷺ نے نصف وسق قرض کا مطالبہ کیا، اس نے آپ ﷺ کو دیا، ایک آدمی نے قرض کا تقاضا کیا تو آپ ﷺ نے اس کو ایک وسق دیا اور فرمایا: ”نصف تو قرض کی ادائیگی ہے اور نصف میری جانب سے ہے۔“
حدیث نمبر: 10941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي، قَالَ: " نَعَمْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا بُخْتِيَّةً " ثُمَّ قَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَقَضَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا أَفْضَلُ مِنْ بَكْرِي، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ، إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹ فروخت کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر قرض کا تقاضا کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بختی اونٹ عطا کروں گا۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھے میرا قرض احسن طریقے سے ادا کیا، پھر ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میرا اونٹ دو۔ آپ ﷺ نے دو دانت والا اونٹ عطا کیا تو دیہاتی کہنے لگا: یہ میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین لوگ وہ ہیں جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھے ہیں۔“
حدیث نمبر: 10942
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَثَابِتٌ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى، فَقَالَ لِي: " قُمْ فَصَلِّ " وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَثَابِتٍ الزَّاهِدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو۔“ اور میرا قرض آپ ﷺ کے ذمہ تھا، آپ ﷺ نے مجھے وہ ادا بھی کیا اور زیادہ بھی دیا۔
حدیث نمبر: 10943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي بَعِيرٌ مُعْتَلٌّ وَأَنَا أَسُوقُهُ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ بَعِيرِكَ هَذَا؟ " قَالَ: قُلْتُ: مُعْتَلٌّ أَوْ ظَالِعٌ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ فَضَرَبَهُ ثُمَّ قَالَ: " ارْكَبْ " فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي أَوَّلِهِ وَإِنِّي لَأَحْبِسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ: " لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طَرُوقًا " قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " مَا تَزَوَّجْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟ " قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَبْدَ اللهِ تَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً قَدْ عَقَلَتْ، فَمَا قَالَ لِي أَسَأْتَ وَلَا أَحْسَنْتَ، ⦗٥٧٦⦘ ثُمَّ قَالَ لِي: " بِعْنِي بَعِيرَكَ هَذَا " قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " بِعْنِيهِ " قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيَّ قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: " نَعَمْ، تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ " وَأَرْسَلَ إِلَيَ بِلَالٍ، فَقَالَ: " أَعْطِهِ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " فَأَعْطَانِي وُقِيَّةً وَزَادَنِي قِيرَاطًا، فَقُلْتُ: لَا يُفَارِقْنِي هَذَا الْقِيرَاطُ، شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى أَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، الْبُخَارِيُّ بِالْإِشَارَةِ إِلَيْهِ، وَمُسْلِمٌ بِالرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور میرے پاس تھکا ہوا اونٹ بھی تھا اور لوگوں کے آخر میں چل رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اونٹ کی کیا حالت ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تھکا ہوا ہے، آپ ﷺ نے اس کی دم کو پکڑ کر مارا، پھر فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ پھر میں سب سے اگلے لوگوں میں چل رہا تھا، پھر میں نے اس کو نہیں روکا۔ جب ہم قریب ہوئے تو اپنے گھر جانے کی جلدی کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر رات کو داخل نہ ہونا،“ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”بیوہ یا کنواری سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کنواری سے کرتے وہ تجھ سے کھیلتی، مذاق کرتی اور آپ اس سے کھیلتے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد عبداللہ نے بچیاں چھوڑی ہیں، میں ان جیسی ان کے پاس نہیں لانا چاہتا تھا، میں نے سمجھدار عورت سے شادی کا ارادہ کیا، آپ ﷺ نے مجھے یہ نہ فرمایا کہ تو نے اچھا یا برا کیا ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ فروخت کر دو،“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کا ہے، جب آپ ﷺ نے بار بار کہا تو میں نے کہا کہ فلاں کا ایک اوقیہ سونا میرے ذمہ ہے اس کے عوض خرید لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر اپنے گھر تک چلو۔“ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو ایک اوقیہ سونا دو اور زیادہ بھی دینا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک اوقیہ اور ایک قیراط سونا دیا، میں نے کہا: یہ قیراط جو نبی ﷺ نے مجھے زیادہ دیا ہے مجھ سے جدا نہ ہوگا، میں نے جیب میں ڈال لیا، وہ ہمیشہ میرے پاس رہا، یہاں تک کہ وہ شامیوں نے حرہ کے دن لے لیا۔
حدیث نمبر: 10944
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَضَاهُ دَرَاهِمَ خَيْرًا مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذِهِ خَيْرٌ مِنْ دَرَاهِمِي الَّتِي أَسْلَفْتُكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ وَلَكِنَّ نَفْسِي بِذَلِكَ طَيِّبَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کسی سے چند درہم قرض لیا، پھر اس سے بہتر واپس کر دیا، اس آدمی نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! یہ درہم میرے درہموں سے زیادہ اچھے ہیں۔“ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں جانتا تھا لیکن میں نے اپنی خوشی سے ادا کیے ہیں۔“