کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیعِ عربان (پیشگی بیعانہ دے کر خرید و فروخت کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: فَقَالَ لِي مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوِ الْأَمَةَ أَوْ يَتَكَارَى الْكِرَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى أَوْ تَكَارَى مِنْهُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا، أَوْ دِرْهَمًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ أَقَلَّ عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ، أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ، أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ، وَإِنْ تَرَكْتُ الْبَيْتَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ فَهُوَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ، قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمُوَطَّأِ لَمْ يُسَمِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے مجھے کہا: اس میں جو ہمارا خیال ہے، «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“ کہ آدمی غلام یا لونڈی خریدتا ہے یا کرایہ پر کوئی چیز لیتا ہے، پھر اس شخص سے کہتا ہے جس سے خریدا یا کرایہ پر حاصل کیا کہ میں تجھے دینار یا درہم یا اس سے زیادہ یا اس سے کم اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے سامان لے لیا یا جو سواری میں نے تجھ سے کرایہ پر لی ہے اس پر سوار ہوا تو جو میں نے تجھے دیا ہے وہ سامان کی قیمت یا جانور کے کرائے میں سے ہوگا، اور اگر میں بیع یا کرائے کو چھوڑ دوں تو جو میں نے تجھے دیا ہے وہ بغیر کسی عوض کے تیرا ہوگا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یہ حدیث موطا میں اسی طرح روایت کی ہے اور جس سے روایت کی اس کا نام نہیں لیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یہ حدیث موطا میں اسی طرح روایت کی ہے اور جس سے روایت کی اس کا نام نہیں لیا۔
وَرَوَاهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، ⦗٥٦٠⦘ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ يَعْنِي الْمَاسَرْجِسِيَّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّدَفِيُّ بِمِصْرَ، ثنا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، فَذَكَرَهُ، وَيُقَالُ: لَا بَلْ أَخَذَهُ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی حبیب اس کی مثل ذکر کرتے ہیں اور کہا گیا ہے: نہیں، بلکہ مالک نے ابن لہیعہ سے لیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ. قَالَ: وَيُقَالُ: إِنَّ مَالِكًا سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنَ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَشْهُورٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ..
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے اسے ایک ثقہ راوی سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث ابن لہیعہ سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے سنی ہے، اور ابن لہیعہ عن عمرو بن شعیب والی حدیث مشہور ہے، قتیبہ نے بھی اسے ابن لہیعہ سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سے بھی، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کی گئی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سے بھی، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ يَعْنِي أَبَا الشَّيْخِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، فَذَكَرَهُ. عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ فِيهِ نَظَرٌ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ضَعِيفٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلُ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسی طرح (دوسری سند سے) حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سے بھی مروی ہے۔
عاصم بن عبدالعزیز اشجعی محل نظر ہیں، حبیب بن ابی حبیب ضعیف ہیں، اور عبداللہ بن عامر اور ابن لہیعہ قابل حجت نہیں ہیں، اور اس حدیث کی اصل امام مالک کی مرسل روایت ہے۔
عاصم بن عبدالعزیز اشجعی محل نظر ہیں، حبیب بن ابی حبیب ضعیف ہیں، اور عبداللہ بن عامر اور ابن لہیعہ قابل حجت نہیں ہیں، اور اس حدیث کی اصل امام مالک کی مرسل روایت ہے۔