کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک ہی بیع میں دو بیع (دو سودے یا دو شرطیں) کرنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ " - وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى - قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ " قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: يَعْنِي يَقُولُ: هُوَ لَكَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ، وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا۔“
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے،“ عبدالوہاب کہتے ہیں کہ نقد آپ کے لیے دس اور ادھار بیس کا ہوگا۔
(ب) یحییٰ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے،“ عبدالوہاب کہتے ہیں کہ نقد آپ کے لیے دس اور ادھار بیس کا ہوگا۔
وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حُكُومَةً فِي شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَأَنَّهُ أَسْلَفَ دِينَارًا فِي قَفِيزِ بُرٍّ إِلَى شَهْرٍ، فَلَمَّا حَلَّ الْأَجَلُ وَطَالَبَهُ بِالْبُرِّ، قَالَ لَهُ: بِعْنِي الْقَفِيزَ الَّذِي لَكَ عَلَيَّ بِقَفِيزَيْنِ إِلَى شَهْرَيْنِ، فَهَذَا بَيْعٌ ثَانٍ قَدْ دَخَلَ عَلَى الْبَيْعِ الْأَوَّلِ، فَصَارَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَيُرَدَّانِ إِلَى أَوْكَسِهِمَا وَهُوَ الْأَصْلُ فَإِنْ تَبَايَعَا الْبَيْعَ الثَّانِيَ قَبْلَ أَنْ يَتَنَاقَضَا الْبَيْعَ الْأَوَّلَ كَانَا مُرْبِيَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک بیع میں دو بیعیں کیں تو اس کے لیے دونوں میں سے کم والی ہے یا پھر سود ہے۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو سلیمان کی کتاب میں اس حدیث کی تفسیر پڑھی: یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص معاملے کا حکم ہے، گویا کسی نے ایک مہینہ کی مدتِ مقررہ تک گندم کے ایک قفیز کے بدلے ایک دینار پیشگی دے دیا۔ جب مدت مکمل ہوئی اس نے گندم کا مطالبہ کر دیا تو لینے والے نے کہا: وہ قفیز گندم کا جو میرے اوپر قرض تھا وہ مجھے دو قفیزوں کے بدلے دو ماہ کی مدت تک فروخت کر دو۔ یہ دوسری بیع ہے جو پہلی بیع میں شامل ہو گئی تو یہ ایک بیع میں دو بیوع ہیں۔ یہ کمی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، یعنی اصل کی طرف۔ اگر وہ پہلی بیع کو ختم کرنے سے پہلے دوسری بیع کرتے ہیں تو دونوں سود خور ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو سلیمان کی کتاب میں اس حدیث کی تفسیر پڑھی: یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص معاملے کا حکم ہے، گویا کسی نے ایک مہینہ کی مدتِ مقررہ تک گندم کے ایک قفیز کے بدلے ایک دینار پیشگی دے دیا۔ جب مدت مکمل ہوئی اس نے گندم کا مطالبہ کر دیا تو لینے والے نے کہا: وہ قفیز گندم کا جو میرے اوپر قرض تھا وہ مجھے دو قفیزوں کے بدلے دو ماہ کی مدت تک فروخت کر دو۔ یہ دوسری بیع ہے جو پہلی بیع میں شامل ہو گئی تو یہ ایک بیع میں دو بیوع ہیں۔ یہ کمی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، یعنی اصل کی طرف۔ اگر وہ پہلی بیع کو ختم کرنے سے پہلے دوسری بیع کرتے ہیں تو دونوں سود خور ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَامٌ شَفُّ مَا لَمْ يُضْمَنْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیع اور قرض، اور ایک بیع میں دو بیعوں، اور جو آپ کے پاس موجود نہ ہو اس کو فروخت کرنے“ سے منع فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منافع حرام ہے اس چیز کا جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ لی گئی ہو۔“