حدیث نمبر: 10874
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: فَقَالَ لِي مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوِ الْأَمَةَ أَوْ يَتَكَارَى الْكِرَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى أَوْ تَكَارَى مِنْهُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا، أَوْ دِرْهَمًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ أَقَلَّ عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ، أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ، أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ، وَإِنْ تَرَكْتُ الْبَيْتَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ فَهُوَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ، قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمُوَطَّأِ لَمْ يُسَمِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے مجھے کہا: اس میں جو ہمارا خیال ہے، «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“ کہ آدمی غلام یا لونڈی خریدتا ہے یا کرایہ پر وصول کرتا ہے، پھر اس شخص سے کہتا ہے جس سے خریدا یا کرایہ پر حاصل کیا کہ میں تجھے دینار یا درہم یا اس سے زیادہ یا اس سے کم دیتا ہوں کیونکہ میں نے سامان لیا یا جب سے میں نے کرایہ پر حاصل کیا میں نے سواری کی۔ جو میں نے تجھے دیا ہے یہ سامان کی قیمت، جانور کا کرایہ ہے، اگر میں بیع یا کرائے کو چھوڑ دوں گا تو جو میں نے تجھے دیا ہے وہ تیرے لیے ہے بغیر کوئی چیز وصول کیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10874
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه مالك 1271»