أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَ نَخْلِهِ كَيْلًا، وَكَرْمَهُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا "، ⦗٥٠١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مزابنہ سے منع فرمایا ہے“ اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجوریں ماپ کر خشک کھجور کے بدلے فروخت کرے اور انگور کو ماپے ہوئے کے عوض فروخت کرے۔
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا أَبُو الْفَيَّاضِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَتَهُ كَيْلًا إنْ زَادَ فَلِي وَإنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ " وَفِي رِوَايَةِ عَارِمٍ " أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَةَ بِكَيْلٍ "، وَزَادَ أَبُو الرَّبِيعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ سے منع فرمایا ہے“ اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کھجور کا پھل ماپ کر فروخت کرے اگر زیادہ ہوا تو میرے لیے اور اگر کم ہو جائے تو میرے ذمہ ہے۔
(ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔
(ج) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «الْعَرَايَا» ”بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے“۔
(ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔
(ج) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «الْعَرَايَا» ”بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے“۔
وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَزَادَ فِيهِ: قَالَ نَافِعٌ: وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ بِمَنْزِلَةِ الْمُزَابَنَةِ فِي النَّخْلِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن حرب، حماد سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں (یہ) زیادہ ہے، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الْمُحَاقَلَةُ» ”محاقلہ“ کھیتی کے بارے میں ہے، «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ کے کھجور کے قائم مقام۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ”کوئی شخص اپنے باغ کا پھل فروخت کرے۔ اگر کھجور ہے تو خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں۔ اگر انگور ہے تو وہ اپنے انگور کو منقہ کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کرے۔ اگر کھیتی ہے تو متعین ماپے ہوئے غلہ کے عوض فروخت کرے۔“ آپ ﷺ نے ان تمام سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَرَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، وَالْمُخَابَرَةُ كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ السُّنْبُلَةِ بِالْحِنْطَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ " قُلْتُ لِسُفْيَانَ: هَذَا التَّفْسِيرُ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ؟، قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ دُونَ التَّفْسِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ”«الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“، «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“ اور «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا اور بیع «الْعَرَايَا» ”عرایا“ میں رخصت دی۔“ مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دے اور محاقلہ یہ ہے کہ بالیوں میں گندم کے بدلے خریدنا اور مزابنہ یہ ہے کہ تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ میں نے سفیان سے کہا: یہ ابن جریج کی حدیث میں تفسیر ہے؟ فرماتے ہیں: ہاں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا فِي الْحَدِيثِ: " وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقِ تَمْرٍ، وَالْمُخَابَرَةُ كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ، ابن جریج رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس کا معنیٰ ذکر کیا ہے، وہ دونوں حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: «الْمُحَاقَلَةُ» ”محاقلہ“ یہ ہے کہ کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے (فرق: ۳ صاع، ایک صاع ۲۱۰۰ گرام، تین صاع: ۶۳۰۰ گرام، سو فرق: ۶۳۰۰۰ گرام)، «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ یہ ہے کہ تازہ پھل جو کھجوروں کے اوپر ہے اس کو سو فرق خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔
«الْمُخَابَرَةُ» ”مخابرہ“ یہ ہے کہ پیداوار کے ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔
«الْمُخَابَرَةُ» ”مخابرہ“ یہ ہے کہ پیداوار کے ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَطَاءٍ: وَمَا الْمُحَاقَلَةُ؟ قَالَ: " الْمُحَاقَلَةُ فِي الْحَرْثِ كَهَيْئَةِ الْمُزَابَنَةِ فِي النَّخْلِ سَوَاءٌ بَيْعُ الزَّرْعِ بِالْقَمْحِ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ أَفَسَّرَ لَكُمْ جَابِرٌ فِي الْمُحَاقَلَةِ كَمَا أَخْبَرْتَنِي؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ محاقلہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں: محاقلہ کھیتی کے بارے میں ویسے ہی ہے جیسے مزابنہ کی حیثیت کھجور کے بارے میں ہوتی ہے، برابر ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے فروخت کیا جائے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے یہ تفسیر بیان کی تھی، جیسے آپ ﷺ نے مجھے بتایا ہے؟ فرمانے لگے: ہاں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بالتمر فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے“، «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا، «الْمُحَاقَلَةُ» ”محاقلہ“ زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا سَعْدَانُ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ " وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْقَصِيلِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے“ اور عکرمہ رحمہ اللہ بیع قصیل کو ناپسند کرتے تھے (یعنی بیع محاقلہ کا دوسرا نام)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”محاقلہ اور مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے۔
وَرَوَاهُ شَرِيكٌ النَّخَعِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَزَادَ فِيهِ: " فَأَمَّا الْمُزَابَنَةُ فَأَنْ تَشْتَرِيَ الثَّمَرَ فِي ⦗٥٠٣⦘ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَأَمَّا الْمُحَاقَلَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ الْحِنْطَةَ فِي السُّنْبُلِ بِالْحِنْطَةِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شَرِيكٌ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
شریک نخعی رحمہ اللہ حضرت سہیل رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اس میں کچھ اضافہ ہے، «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ یہ ہے کہ آپ کھجور کا تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے فروخت کر دیں، «الْمُحَاقَلَةُ» ”محاقلہ“ یہ ہے کہ آپ بالیوں میں پڑی گندم، گندم کے عوض فروخت کر دیں۔