حدیث نمبر: 10641
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَطَاءٍ: وَمَا الْمُحَاقَلَةُ؟ قَالَ: " الْمُحَاقَلَةُ فِي الْحَرْثِ كَهَيْئَةِ الْمُزَابَنَةِ فِي النَّخْلِ سَوَاءٌ بَيْعُ الزَّرْعِ بِالْقَمْحِ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ أَفَسَّرَ لَكُمْ جَابِرٌ فِي الْمُحَاقَلَةِ كَمَا أَخْبَرْتَنِي؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ محاقلہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں: محاقلہ کھیتی کے بارے میں ویسے ہی ہے جیسے مزابنہ کی حیثیت کھجور کے بارے میں ہوتی ہے، برابر ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے فروخت کیا جائے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے یہ تفسیر بیان کی تھی، جیسے آپ ﷺ نے مجھے بتایا ہے؟ فرمانے لگے: ہاں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10641
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»