حدیث نمبر: 10638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ”کوئی شخص اپنے باغ کا پھل فروخت کرے۔ اگر کھجور ہے تو خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں۔ اگر انگور ہے تو وہ اپنے انگور کو منقہ کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کرے۔ اگر کھیتی ہے تو متعین ماپے ہوئے غلہ کے عوض فروخت کرے۔“ آپ ﷺ نے ان تمام سے منع فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10638
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري2091»