حدیث نمبر: 10640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا فِي الْحَدِيثِ: " وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقِ تَمْرٍ، وَالْمُخَابَرَةُ كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ".
حافظ ثناء اللہ

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ، ابن جریج رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس کا معنیٰ ذکر کیا ہے، وہ دونوں حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: «الْمُحَاقَلَةُ» ”محاقلہ“ یہ ہے کہ کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے (فرق: ۳ صاع، ایک صاع ۲۱۰۰ گرام، تین صاع: ۶۳۰۰ گرام، سو فرق: ۶۳۰۰۰ گرام)، «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ یہ ہے کہ تازہ پھل جو کھجوروں کے اوپر ہے اس کو سو فرق خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔
«الْمُخَابَرَةُ» ”مخابرہ“ یہ ہے کہ پیداوار کے ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10640
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»