کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیعِ مخاضرہ (پھل اور فصل کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ، قَالُوا: ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمُخَاضَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " - زَادَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ - وَالْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”«الْمُخَاضَرَةِ» (پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنا) اور «الْمُعَاقَلَةِ» (کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے) اور «الْمُزَابَنَةِ» (کھجور کے درخت کی کھجوریں خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں اگر زیادہ ہوں تو میرا حق ہوگا اور کم پڑیں تو ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی)“ اور ابن عمر بن یونس رحمہ اللہ نے زیادہ کیا کہ ”«الْمُنَابَذَةِ» (ایک آدمی دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینکتا ہے اور ان کا سودا بغیر دیکھے اور بغیر رضامندی کے طے ہو جاتا ہے) اور «الْمُلَامَسَةِ» (کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے کپڑے کو دن ہو یا رات چھوتا ہے، اس کو الٹ پلٹ کر نہیں دیکھتا)“ سے منع فرمایا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ "، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمُخَاضَرَةُ: أَنْ تُبَاعَ الثِّمَارُ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَهِيَ خَضِرٌ بَعْدُ وَيَدْخُلُ فِي الْمُخَاضَرَةِ أَيْضًا بَيْعُ الرِّطَابِ وَالْبُقُولِ وَأَشْبَاهِهَا؛ وَلِهَذَا كَرِهَ مَنْ كَرِهَ بَيْعَ الرِّطَابِ أَكْثَرَ مِنْ جَزَّةٍ وَاحِدَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن یونس بن قاسم یمامی رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ۔“ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مخاضرہ یہ ہوتی ہے کہ پھل پکنے سے پہلے فروخت کر دیا جائے جبکہ وہ ابھی سبز ہو، اور مخاضرہ میں تر کھجور، سبزیوں اور اس کے مشابہ کی بیع بھی شامل ہے۔ اس وجہ سے اسے اس شخص نے مکروہ خیال کیا جس نے ایک حصہ سے زائد پر تر کھجور کی بیع کو ناپسند کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ جَزَّتَيْنِ، قَالَ: " لَا إِلَّا جَزَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
برید بن ابی بردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے تر کھجور کے دو حصوں کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: نہیں، صرف ایک حصہ۔